’داخلہ منسوخ ہونے سے میرا دل ٹوٹا ہے جذبہ نہیں‘، جامعہ سے داخلہ رد ہونے کے خلاف صفورہ زرگر کا احتجاج۔
نئی دہلی : جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آج صفورہ زرگر نے داخلہ رد کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس دوران جامعہ کے متعدد طلباء نے بھی صفورہ کی حمایت کی۔ صفورہ زرگر نے ٹوئٹ کیا کہ اتنی جلدی ان کے داخلہ کے منسوخی کو منظوری دی گئی۔ عام طور پر سست رفتار سے چلنے والی جامعہ ملیہ اسلامیہ انتظامیہ نے تمام ضروری عمل کو نظر انداز کرتے ہوئے، میرا داخلہ منسوخ کرنے میں تیزی سے کام کیا۔ اس سے میرا دل ٹوٹا ہے جذبہ نہیں۔ واضح رہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ انتظامیہ کی جانب سے صفورہ زرگر کا داخلہ رد کرنے سے متعلق آفیشل سرکیولر جاری کیا گیا تھا جس کے بعد سماجی کارکن و اسکالر صفورہ زرگر نے اعلان کیا ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ نے شعبہ سماجیات کے تحت ایم فل پروگرام میں ان کا داخلہ منسوخ کر دیا ہے۔ جامعہ کے سرکیولر کے مطابق صفورہ کا داخلہ اس کے سپروائزر کی غیر تسلی بخش رپورٹ کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا ہے۔داخلہ رد کرنے کے خلاف صفورا زرگر کا احتجاجصفورہ زرگر ایک کارکن اور اسکالر ہیں جو سی اے اے مخالف مظاہروں میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجہ سے سرخیوں میں آئی تھیں۔ 29 اگست 2022 کو 29 سالہ صفورہ نے یہ اعلان کیا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ نے شعبہ سماجیات کے تحت ایم فل پروگرام میں ان کا داخلہ منسوخ کر دیا ہے۔ یونیورسٹی کے جاری کردہ نوٹس کے مطابق، زرگر کا داخلہ منسوخ کر دیا گیا ہے کیونکہ 'اس کے سپروائزر کی طرف سے اس کی پیشرفت رپورٹ تسلی بخش نہیں تھی اور یہ کہ اس نے بطور خاتون اسکالر توسیع کے لیے درخواست نہیں دی۔ میں مزید کہا گیا کہ داخلہ منسوخ کر دیا گیا ہے کیونکہ زرگر نے مقررہ وقت کے اندر اپنا ایم فل مقالہ جمع نہیں کرایا، معمول کا وقت 5 سمسٹرز کا ہوتا ہے لیکن کووڈ 19 وبائی مرض کی وجہ سے چھٹے سمسٹر تک بھی وہ اپنا مقالہ جمع نہیں کرا پائیں۔