جشن آزادی کے عنوان پر جامعہ الہدایہ والہدایہ پبلک اسکول میں پُر وقار تقریب کا انعقاد، بچوں نے پیش کیۓ حب الوطبی کی مناسبت سے دلکش پروگرام۔
مظفر نگر: جامعہ الہدایہ و الہدایہ پبلک اسکول میں یوم آزادی کے موقع پر باوقار تقریب کا انعقاد عمل میں آیا ، جس میں بچوں نے بہت ہی دلکش حب الوطبی کی مناسبت سے مختلف پروگرامات پیش کئے گئے۔
پروگرام میں ہندو مسلم سربراہان نے شرکت کرکے بتایا کہ ملک کی آزادی ہند و اور مسلمانوں کی مشترکہ جدوجہد اور قربانیوں کانتیجہ ہے۔کسی کی قربانیوں کو کمتر گرداننا یا وطن پرستی پر سوالیہ نشان لگانا مجاہدین آزادی کی تو ہین کرنے کے مترادف ہے ۔پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور چرتھاول ایم ایل اے پنکج ملک نے شرکت کی،پروگرام سے قبل طلباءوطالبات کے علاقہ کے معزز لوگوں نے ترنگا ریلی نکالی۔
چرتھاول نگلہ راعی کے جامعہ الہدایہ جامعہ نگر میں آج یوم آزادی پوری شان وشوکت کے ساتھ منا یاگیا، جس میں سب سے پہلے قومی پرچم کشائی جمعیة علماءمغربی اترپردیش کے نائب صدرحافظ محمد فرقان اسعدی،چرتھاول ایم ایل اے پنکج ملک ،پردھان محمد افسرون کے ہاتھوں عمل میں آئی ۔ اس کے بعد بچوں نے قومی ترانہ پیش کیا۔
پروگرام کی صدارت صدر حافظ محمد فرقان اسعدی نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض اسکول کے مینیجر مولانا موسیٰ قاسمی نے انجام دیئے۔جامعہ ہدایہ کے طلبا نے مختلف قسم کے پروگرامات پیش کرکے تقریب کو خوبصورت بنایا۔جس میں جنگ آزادی میں مجاہدین آزادی کے کردار پر اہم اور تفصیلی خطابات بھی ہوئے۔، اس کے قبل قومی ترانہ کے بعد قومی پرچم کو سلامی دی گئی۔
ایم ایل اے پنکج ملک نے کہا کہ یہ دن ہمارا قومی تیوہار ہے، جس کو ہم سبھی بلا تفریق مذہب پورے جوش وجذبہ کے ساتھ مناتے ہیں، لیکن ہمیں ان مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو بھی یاد کرناچاہئے جن کی بدولت آج ہم کھلی فضاءمیں سانس لے رہے ہیں ،پنکج نے کہا کہ جنگ آزادی میں سبھی مذاہب کے سرکردہ افراد نے قربانیاں دیکر انگریزوں کی غلامی سے وطن عزیز کو آزاد کرایا تھا،یہ آزادی کسی ایک طبقہ کے لئے نہیں بلکہ ہندوستان کی تمام عوام کے لئے تھی ،انہوںنے کہا کہ آزادی ہند میں مسلمانوں کی قربانیاں برادران وطن سے کم نہیں ہیں، سبھی کی متحدہ کوششوں کے بعد ہی ملک انگریزوں کی کی غلامی سے نکلا تھا، انہوں نے علماءدیوبند سمیت مسلمانوں کی قربانیوں اور جدوجہد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
حافظ محمد فرقان اسعدی نائب صدر جمعیة علماءمغربی اترپردیش نے کہاکہ ملک کو انگریزوں کے تسلط آزادی دلانے میں اکیلے کسی بھی سماج ، مذہب کے لوگوں کا کردار نہیں بلکہ جہاں مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو، سبھاش چندر بوس، شہید بھگت سنگھ،کی قربانیاں تھیں تو ان کے ساتھ ساتھ عطاءاللہ شاہ بخاری، مولانا سندھی، شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ابوالکلام آزاد، اشفاق اللہ خاں،سمیت علماءکی بڑی جماعت اس میں شامل تھی ،انہوں نے آزادی سے دارالعلوم دیوبند ، وجمعیة علماءہند کے بنیادی مقاصد پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی،نے کہا کہ افسوس ہوتا ہے کہ آ ج ایسی سوچ وفکر ملک کے سیکولزم کے مضبوط ڈھانچے کو تہس نہس کرنے پر آمادہ ہے جس کا جنگ آزٓادی میں کوئی رول نہیں رہا۔
پنڈت راج کشور شرما صدر بھارتیہ کسان یونین نے کہا کہ کہ معاشرہ میں پھیل رہی برائیوں کا خاتمہ صرف تعلیم سے ہی ممکن ہے لہٰذا آزادی کی تہترویں سالگرہ پر آج ہم اس بات کا عہد کریں کہ بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے ان کو عمدہ اور معیاری تعلیم دلائیں گے،اور سماجی برائیوں کو ملکر ختم کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ آج ہمیں فرقہ پرستی، کرپشن، عدم مساوات،خوف، جنونی بھیڑسے آزادی کی اشد ضرورت ہے جس کو سماج کے سبھی طبقات متحد ہوکر ہی حاصل کرسکتے ہیں۔
تمہیدی گفتگو میں مولانا موسیٰ قاسمی ڈائریکٹر جامعہ الہد ایہ نے کہا کہ ہمیں تعلیم کواپنا مستقل ایجنڈا بناکر اس پر کام کرنا ہوگا،انہوں نے کہا کہ یہ بہترین موقع ہے جس کو ہم اپنے لئے استعمال کرسکتے ہیں، آج ہمیں ایسے اداروں کی شدید ضرورت ہے جہاں دینی اور عصری،ٹیکنکل تعلیم کا مضبوط بندوبست ہو،انہوںنے کہا کہ اصل آزادی اسی وقت ملے گی جب ہم نفرتی سیاست کے خلاف مل جل کر قربانی دینگے ،انہوںنے کہا کہ آ نے والا وقت ٹیکنکل دور ہے ، ہمیں اپنے بچوں کو دینی اور عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر کی تعلیم سے بھی منظم طور سے آراستہ کریں
مولانا احسان الحق قاسمی نے آخر میں مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر حافظ محمد فرقان اسعدی،ایم ایل اے پنکج ملک، پنڈت راج کشور شرما، پردھان محمد افسرون ، مولانا موسیٰ قاسمی، مولانا احسان قاسمی، قاری شعیب عالم، قاری شا ہنواز، حاجی مطلوب راعین،صبیحہ خانم، آفرین تیاگی، عفت جہاں،نصرت جہاں، راحت ہدی،حاجی نعیم ، حاجی سلیم،ڈاکٹر شاہ فیض،ڈاکٹر شاداب، قاری شہزاد، ظہیر ڈیلر، حاجی عابد حسین، حاجی عبد القادر،شاہد راعین، لقمان احمد، حاجی مستقیم احمد،شہزاد رانا،ساجد عطار، قاری نوشاد،فرقان انصاری،موجود رہے۔

سمیر چودھری۔