حجاب تنازعہ: 17 ہزار طالبات نے چھوڑا اسکول، پابندی لگا نا تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کرنا ہے، سپریم کورٹ میں حجاب تنازعہ پر درخواست گزاروں کے وکیل کی دلیل۔
نئی دہلی:  حجاب پہننے کو لے کر اٹھاۓ گئے معاملے میں بدھ کو سپریم کورٹ میں ایک اہم ساعت ہوئی۔ درخواست گزاروں میں سے ایک کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل آدتیہ سوندھی نے دلیل دی کہ میں جسٹس سچر کمیٹی کی رپورٹ کے نتائج کا حوالہ دیتا ہوں جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ مسلم خواتین کو ان کے حجاب، برقعہ وغیرہ پہننے کے طریقوں کی وجہ سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سوندھی نے نائیجیریا کی سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا جس میں لاگوں کے سرکاری اسکولوں میں حجاب کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی۔ حکومت کا حکم بالآخر اسکولوں پر چھوڑ دینا چاہیے۔ ان حالات میں امن عامہ کا کیا مسئلہ پیدا ہوتا ہے؟ لڑکیوں نے اسے صرف کسی نہ کسی بنیاد پر پہنا ہے اور کرناٹک ہائی کورٹ کے حکومت کے حکم کو نہ صرف مذہب کی آزادی تعلیم کے حق کی خلاف ورزی کرتا ہے بلکہ آرٹیکل 15 کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے، جو کہ امتیازی سلوک ہے۔ طالبات سے حجاب پہننے یا تعلیم جاری رکھنے کے حق کا انتخاب
کرنے کے لیے کیسے کہا جا سکتا ہے؟ طالبات کو حجاب پہننے کی اجازت نہ دینے کا مطلب یہ بھی ہے کہ انہیں تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ جسٹس ہیمنت گپتا اور جسٹس سدھانشودھولیا کی بیچ اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے اس کے علاوہ ایک دیگر درخواست گزار کے وکیل نے دلیل دی کہ حجاب پر پابندی کے بعد 17000 طالبات نے اسکول چھوڑ دیا۔ درخواست گزار کی جانب سے حذیفہ احمدی نے دعوی کیا ہے کہ کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد سے 17000 طالبات نے اسکول چھوڑ دیا ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ ڈراپ آؤٹ حجاب پر پابندی کے بعد ہوا ہے۔

مسلم طالبات پر حجاب کی پابندی کااثر۔
سماعت کے دوران جسٹس سدھانشو دھولیا نے حذیفہ احمدی سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی نمبر ہے کہ حجاب پر پابندی کے بعد کتنی طالبات نے اسکول چھوڑا ہے؟ اس پر احمدی نے کہا کہ پی یوسی ایل کی رپورٹ کے مطابق 17 ہزارطالبات نے اسکول چھوڑ دیا اوروہ امتحان میں بھی نہیں بیٹھ سکیں۔ احمدی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے بہت سی طالبات اسکولی تعلیم سے محروم ہوگئی ہیں ان اعدادوشمارکو رکھنے کے بعد حذیفہ احمدی نے کہا کہ کسی کا حجاب پہننا دوسرے کے لیے کیسے غلط ہوسکتا ہے۔ ریاست کا کام تنوع کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، طریقوں پر پابندی لگا نا نہیں، کسی کو یہ کیوں محسوس ہونا چاہئے کسی کی مذہبی رسومات سیکورتعلیم یا اتحاد میں رکاوٹ ہے؟ اگرکوئی حجاب پہن کر اسکول جاتا ہے تو کوئی دوسرا ناراض کیوں ہوگا؟ دوسرے طالب علم کومسئلہ کیوں ہونا چاہئے؟ حذیفہ احمدی نے مزید کہا کہ اگر یہ آپ کو مشتعل کرتا ہے تو آپ کو اس کا ازالہ کرناہوگا۔ یہ آئین کے دیباچے میں بھائی چارے کے تصور کے برعکس ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی میں اس خیال کو شامل کیا گیا ہے کہ اسکول تنوع اور تنقیدی سوچ کو قبول کرتے ہیں۔

سمیر چودھری۔