جمعیۃ علماء کرناٹک کا رام نگر سیلاب متاثرین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کا کام وسیع پیمانے پر جاری،  پہلے مرحلے میں ریلیف کے ساتھ 23؍ متاثرین کی باز آباد کاری کیلئے فی گھر 25-25 ہزار کی رقم تقسیم کی گئی۔
بنگلور: (پریس ریلیز): جمعیۃ علماء ہندکے قومی صدر امیر الہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب مدظلہ کے حکم پر ریاست کرناٹک کے ضلع رام نگر میں موسلا دھار بارش اور سیلاب متاثرین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کا عمل جمعیۃ علماء کرناٹک کی جانب سے جاری ہے۔ ریاستی وفد کی ابتدائی سروے رپورٹ کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ اب اکثر مقامات پر اناج اور کپڑے وغیرہ کی ضرورت نہیں رہی، لیکن سب سے پیچیدہ اور مشکل مرحلہ ان کی باز آباد کاری کا ہے۔ اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے جمعیۃ علماء کرناٹک کے ذمہ داران نے جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری حضرت مفتی سید معصوم ثاقب صاحب قاسمی مدظلہ سے مشورہ کے بعد سینکڑوں متاثرین کے درمیان ضروریات زندگی کے سامان اور ریلیف کی تقسیم کے علاوہ ایسے افراد کی نشاندہی فرمائی جو کرائے کے مکانات میں بڑی غربت کی حالت میں اپنی زندگی بسر کر رہے تھے، اور سیلاب کی وجہ سے انکا سب کچھ تباہ و برباد ہوگیا۔ جمعیۃ علماء کرناٹک نے پہلے مرحلہ میں ایسے 23؍ متاثرہ افراد کیلئے کرایہ کے گھروں کا انتظام کیا اور انہیں اڈوانس کیلئے جمعیۃ علماء کرناٹک کی جانب سے 25-25 ہزار روپے کا چیک دیا، بعدازاں دو تین ماہ کا کرایہ بھی جمعیۃ علماء ادا کرے گی۔ سیلاب زدہ علاقہ رام نگر کی مسجد سبحانیہ، ضیاء اللہ بلاک اور مسجد نورانی، یارب نگر میں سیلاب متاثرین کے درمیان ریلیف اور رقم کی تقسیم کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مفتی معصوم ثاقب قاسمی صاحب نے فرمایا کہ جمعیۃ علماء کرناٹک نے سیلاب کی تباہی سے متاثرہ افراد کی باز آباد کاری کے لئے انسانی بنیادوں پر بلا تفریق مذہب و ملت اپنی خدمات پیش کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس سلسلہ میں جمعیۃ علماء کی مختلف یونٹیں منظم طریقے سے راحت کاری کے کاموں میں مصروف ہیں۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ جمعیۃ علماء کی ان خدمات سے برادران وطن کا ایک بڑا طبقہ زبردست متاثر ہوا ہے اور کئی مواقعوں پر جمعیۃ کی جانب سے دی جانے والی امداد حاصل کرنے کے بعد برادران وطن کی آنکھوں میں آنسو بھی دیکھے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جمعیۃ علماء کرناٹک نے سروے کے بعد ابتدائی طور پر ریلیف کی تقسیم کے ساتھ ساتھ کچھ متاثرین کی باز آباد کاری کیلئے پیش قدمی کی ہے۔ ان شاء اللہ اگلے مرحلے میں مزید متاثرہ افراد کیلئے گھروں کا انتظام کیا جائے گا نیز جمعیۃ علماء نے متاثرہ علاقے کے مکانات کی مرمت کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔ قابل ذکر ہیکہ اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا مفتی معصوم ثاقب قاسمی کے علاوہ جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر مولانا عبد الرحیم رشیدی، جنرل سکریٹری محب اللہ خان امین، نائب صدور مولانا شمیم سالک مظاہری، حافظ ارشد احمد میسور، جمعیۃ علماء بنگلور کے صدر مولانا محمد صلاح الدین قاسمی، نائب صدور مولانا شیخ آدم علی قاسمی، حافظ محمد آصف، جمعیۃ علماء کے دیگر ذمہ داران مفتی عبد الرزاق، اقلیم باشاہ، محمد فاضل، امتیاز احمد چشتی، ڈاکر ندیم احمد، محمد فرقان، محمد حیات خان، مجاہد پاشاہ،عطاء اللہ، حافظ عتیق الرحمن، نیز مسجد سبحانیہ ضیاء اللہ بلاک، رام نگر کے امام مولانا عبد الرحیم، صدر عارف اللہ، سکریٹری نثار احمد اور مسجد نورانی، یارب نگر، رام نگر کے امام مولانا عبد السبحان، صدر سید یونس، سکریٹری ضمیر خان وغیرہ خصوصی طور پر شریک تھے۔