ٹی وی اینکروں کی نفرت انگیزی پر سپریم کورٹ بھی برہم، مرکزی حکومت کی سخت سرزنش، کہا آپ کیوں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟۔
ملک میں نفرت انگیز تقاریر کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے پوچھا کہ جب یہ سب ہو رہا ہے تو وہ خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی ہے۔ جسٹس جوزف نے اپنے زبانی ریمارکس میں کہا کہ اینکر کا کردار بہت اہم ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کو نفرت انگیز تقریر کیس میں مرکزی حکومت کے سامنے تشویش کا اظہار کیا اور سخت ریمارک کیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ مرکزی حکومت اس معاملے میں خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے زبانی ریمارکس میں کہا کہ ہمارا ملک کدھر جا رہا ہے؟۔ گزشتہ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ نفرت انگیز تقاریر سے متعلق ملک میں کوئی واضح قانون نہیں ہے، اس لیے سپریم کورٹ اس معاملے میں حکم جاری کرے۔
نفرت انگیز تقریر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکز سے پوچھا کہ جب یہ سب ہو رہا ہے تو وہ خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی ہے۔ جسٹس جوزف نے اپنے زبانی ریمارکس میں کہا کہ اینکر کا کردار بہت اہم ہے۔ نفرت انگیز تقریر یا تو مین اسٹریم ٹی وی یا سوشل میڈیا کے ذریعے آرہی ہے۔ مین سٹریم میڈیا میں کم از کم اینکر کا کردار اہم ہے۔ جیسے ہی کوئی نفرت انگیز تقریر کرنے کی کوشش کرے تو اسے فوراً روکنا اینکر کا فرض ہے۔
جسٹس جوزف نے کہا کہ ہمارے پاس مناسب قانونی فریم ورک ہونا چاہیے۔ کل 11 درخواستیں جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس رشی کیش رائے کی بنچ کے سامنے ہیں، جن میں نفرت انگیز تقاریر کے معاملے کو ریگولیٹ کرنے کی ہدایت مانگی گئی ہے۔