مدارس اسلامیہ دستور ہند کے تحت قائم ہیں، سروے اور جانچ وغیرہ سے اہلِ مدارس کو گھبرانا نہیں چاہئے۔جمعیة علماء ضلع سہارنپور کے تحت منعقد میٹنگ میں مدارس کے نظام کی شفافیت پر دیاگیا زور۔
دیوبند: سمیر چودھری۔
اترپردیش کی یوگی حکومت کے ذریعہ غیر سرکاری مدارس کا سروے کرائے جانے کے فیصلہ پر غور خوض کرنے اور اس سلسلہ میں ضروی لائحہ عمل بنانے کے لئے جمعیة علماءضلع سہارنپور کے تحت ایک اہم میٹنگ کاانعقاد آج موضع گاگلہیڑی میں واقع مدرسہ قاسم العلوم میں کیاگیا،جس میں علاقہ کے مدارس کے ذمہ داران اور جمعیة علماءضلع سہارنپور کے ارکان نے شرکت کی۔ اس موقع پر اہل مدارس سے اپیل کی گئی وہ حالات سے گھبرائیں نہیں اورنہ ہی کسی طرح کے خوف میں آئیں کیونکہ ملک کا آئین ہمیں مذہبی تعلیم دینے کا اختیار دیتاہے اسلئے اپنے مدارس کے نظام کو شفاف بناکر تعلیمی سلسلہ کو بدستور جاری رکھیں۔ 
میٹنگ کی صدارت جمعیة علماءضلع سہارنپور کے صدر مولانا سید حبیب اللہ مدنی نے کی اور نظامت کے فرائض جمعیة علماءکے ضلع سکریٹری مولانا مفتی عطاءالرحمن قاسمی نے انجام دیئے۔ اس موقع پر مولانا حبیب اللہ مدنی نے اترپردیش کی یوگی حکومت کے ذریعہ غیر سرکاری مدارس کا سروے کئے جانے کے فیصلہ پر گفتگو کرتے ہوئے ان گیارہ نکاتی کی وضاحت کی جن کی بنیاد پر سروے رپورٹ تیار کی جائیگی۔مولانا حبیب اللہ مدنی نے مدارس اسلامیہ کی تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ملک کی آزادی اور اس کی تعمیر و ترقی میں مدارس اسلامیہ کا بنیادی کردار ہے لیکن موجودہ حکومتیں مدارس اسلامیہ کی شبیہ کو داغدار بنانے کی کوشش کررہی ہے اور اہل مدارس کی ملک کے تئیں وفاداری کو مشکوک بنانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ہمیں حالات سے بالکل گھبرانا نہیں ہے اور نہ ہی ڈرنا ہے بلکہ اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چل کر حالات کا مقابلہ کرناہے کیونکہ یہ ملک ہمارا ہے اور ہمارے ملک کا سیکولر دستور ہمیں مذہبی آزادی دیتا ہے اور اسی مذہبی آزادی کے تحت ہمارے مدارس قائم ہیں اور ان میں مذہبی تعلیم دی جاتی ہے ،اگر سرکاریں سروے یا جانچ کے نام پر ہمیں ڈرانا یا خوف زدہ کرنا چاہتی ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے ہمیں کسی بھی طرح کے سروے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنے مدارس کے نظام کو صاف ستھرا رکھنا چاہئے، مدارس کے حساب کتاب کو شفاف بنائیں اور ہر طرح کا لین دین بینک کے توسط سے کریں ۔ سوسائٹی اور ٹرسٹوں کے رجسٹریشن ،طلبہ کے دستاویزات کے تحفظ کا خصوصی خیال رکھیں اور تعلیمی اداروں کے لئے جو قوانین ہیں ان پر عمل کریں، ساتھ ہی مدارس میں درسگاہوں اور کمروں کے نظام کو بہتر بنائیں اور حوصلے کے ساتھ علم کے فروغ کے عمل کو انجام دیں۔ 
مولانا مدنی نے سروے کے لئے حکومت کے ذریعہ پیش کئے گئے ان 11 نکات کے سلسلہ میں میٹنگ موجودہ ذمہ داران مدارس کو بتایا اور کہاکہ جن چیزوں کو اس سروے میں شامل کیاگیا ہے اس کی بھی ہمیں مکمل معلومات ہونی چاہئے اور اس کی تیاری رکھنی چاہئے۔
پروگرام کنوینر مفتی عطاءالرحمن قاسمی نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ ملک ہمارا ہے اور ہمارے اکابرین نے اس ملک کی آزادی کے خاطر اپنا خون بہایا ہے ،آزادی ¿ وطن میں مدارس اسلامیہ کی زریں تاریخ ہے جس کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتاہے اسلئے حالات کامقابلہ کریں اور دستور کے تحت تعلیمی سرگرمیاں انجام دیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کا دستور ہمیں مذہبی تعلیم دینے کا اختیار دیتا ہے اسلئے ہمیں کسی سروے وغیرہ سے قطعی گھبرانا نہیں چاہئے ۔ میٹنگ میں شامل دیگر افراد نے بھی اپنے خیالات کااظہار کیا اور حکومتی سروے کے فیصلہ کے سلسلہ میں اپنی رائے ظاہر کی۔
میٹنگ میں مولانا شمشاد قاسمی، مولانا تحسین قاسمی، حافظ فضل الرحمن نانکوی، مولانا آصف ندوی، مفتی عثمان قاسمی، مولانا اقبال فلاحی، مولانا اسامہ کریمی سمیت علاقہ کی سرکردہ شخصیات، مدارس کے ذمہ داران اور جمعیة علماءکے کارکنان نے موجودرہے۔