گجرات میں ’لوجہاد‘ کے خلاف آکروش ریلی، مسلمانوں کو دھمکی، ۱۱؍ ہندو تنظیموں اور بی جے پی ایم ایل اے کی اپیل پر تاجروں کا کاروبار بند کرکے احتجاج ، ۱۵؍ہزار افراد کی شرکت۔
احمد آباد: گجرات کے بناس کانٹھا ضلع کے ڈیسا میں مبینہ ’لوجہاد‘ کی مخالفت میں مختلف ہندو تنظیموں نے سنیچر کو سڑکوں پر اتر کر ’آکروش ریلی‘ نکالی۔ ریلی میں تقریباً ۱۵؍ ہزار ہندو شریک ہوئے۔ اس دوران ریلی کو اقلیتی علاقوں میں جانے سے روکنے کےلیے پولس نے لاٹھی چارج کیا ریلی کے بعد ڈیسا میں سردار باغ کے سامنے منعقدہ عوامی جلسہ سے سیاسی لیڈران سمیت مختلف ہندو تنظیموں نے اقلیتوں سے اس طرح کی سرگرمیوں کو روکنے کا اعلان کرکے غصے کا اظہار کیا۔ آکروش ریلی کے منتظم بی جے پی ایم ایل اے ششی کانت نے اس دوران کہا کہ کوئی بھی آکر ہندو بہن بیٹیوں کے ساتھ چھیڑ خانی کی کوشش کیا تو اسے ہم منہ توڑ جواب دیں، انہوں نے کہاکہ ہندو بہن بیٹیوں سے چھیڑ خوانی کی کوشش کرنے والو ںکو ہم ایسا جواب دیں گے کہ وہ یہاں سے گھر چلے جائیں گے۔ بی جے پی لیڈر نے بھیڑ سے مخاطب ہوکر کہاکہ دوستوں اگر کوئی بہن بیٹیوں کو آنکھ اُٹھا کر دیکھا تو منہ توڑ جواب دیں گے۔ بتادیں کہ بناس کانٹھا میں’لوجہاد ‘ کو لے کر تین ستمبر کو بند کا اعلان کیاگیا تھا آج سبھی تاجروں نے اپنی اپنی دکانیں بند کرکے ایک ساتھ تقریباً گیارہ ہندو تنظیموں نے ریلی کا انعقاد کیا جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے، جیسے ہی ریلی ہیرا بازار پہنچی تو بھیڑ بے قابو ہوگئی، اس پر پولس نے لاٹھی چارج کرکے بھیڑ کو قابو میں کیا۔ بتایاجارہا ہے کہ لاٹھی چارج کے دوران ایک نوجوان سنگین طور پر زخمی ہوگیا جسے ضلع اسپتال بھرتی کرایاگیا ہے جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ ریلی میں شریک ہندوئو ںکا مطالبہ تھا کہ پولس اور انتظامیہ لوجہاد کے معاملے پر سخت کارروائی کرے ۔ الزام ہے کہ بناس کانٹھا میں ایک مسلم نوجوان کی محبت میں پھنسی لڑکی اس کے بھائی اور ماں کے مذہب تبدیل کرانے کا معاملہ سامنے آیا تھا، اس سے متاثرہ والد غمگین ہوکر خودکشی کی کوشش کی تھی جب اس کی اطلاع پولس کو ہوئی تو پولس نے دو ملزمین کو گرفتار کرلیا ۔ خودکشی کرنے والے کے بھائی نے بتایاکہ گائوں کے شیخ خاندان کے اراکین نے اس کی بھتیجی کا برین واش کیا تھا، اعجاز نامی لڑکے نے بھتیجی کو محبت کے جال میں پھنسایا، جب ہم لوگوں نے اس کی مخالفت کی تو لڑکی کا بھی اور ماں بھی اس کی حمایت میں آگئی اور مذہب تبدیل کرکے نماز پڑھنی شروع کردی۔ آکروش ریلی میں شریک مظاہرین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ تینوں افراد کوواپس لاکر انہیں ان کے خاندان سے ملایاجائے اگر انتظامیہ نے ایسا نہ کیاتو آنے والے دنوں میں وہ شدید احتجاج کریں گے۔ہندو لیڈر کیلاش بھائی نے مقامی میڈیاکو بتایاکہ اقلیتی کمیونٹی کی جانب سے تبدیلی مذہب کو برادشت نہیں کیاجائے گا ہم ضلع انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ سے مانگ کررہے ہیں کہ ہند و فیملی کے تین ممبرس کو واپس لائیں اگر وہ ناکام ہوگئے مذہورہ اقلیتی کمیونٹی کو اکثریتی کمیونٹی سے سخت حالات کاسامنا کرنا پڑیگا۔