اے سی بی نے ایم ایل اے امانت اللہ خان کو پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کرلیا۔
امانت اللہ خان سے اے سی بی کی پوچھ تاچھ، گھر سمیت کئی مقامات پر چھاپہ ماری۔
 نئی دہلی: انسداد بدعنوانی بیورو (اے سی بی) عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے اور دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان سے پوچھ گچھ کے درمیان دارالحکومت دہلی میں اُنکے رہائش گاہ چھاپہ ماری کی گئی۔ امانت اللہ خان کے گھر سمیت 5 مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق چھاپے کے دوران ایک ٹھکانے سے کچھ نقدی اور غیر لائسنس یافتہ اسلحہ برآمد ہوا ہے۔
امانت اللہ کو دہلی وقف بورڈ سے متعلق دو سال پرانے معاملے میں جمعہ کو تحقیقات کے لیے بلایا گیا تھا۔ انہیں دوپہر 12 بجے پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ اس دوران 5 مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ امانت اللہ خان کے بزنس پارٹنر حامد علی کے گھر سے غیر ملکی پستول برآمد ہوا ہے جس کا لائسنس نہیں ہے۔ نقدی ملنے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ جامعہ اوکھلا اور غفور نگر علاقوں میں چھاپے مارے گئے ہیں۔
اس معاملہ میں امانت اللہ خان نے ٹیوٹر پر اس کاروائی کی شدید مخالفت کرتے ہوئے دلی کے ایل جی سے کہا کہ ایک طرف اے سی بی نے بلایا ہے اور دوسری طرف گھر پر پولیس بھیج کر گھر والوں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ڈرنے والے نہیں ہیں۔

اپڈیٹ 
امانت اللہ خان پوچھ گچھ کے بعد گرفتار۔

نئی دہلی: اوکھلا سے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے، دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان کو اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کیا ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ اے سی بی کے دفتر میں لاک اپ نہ ہونے کی وجہ سے امانت اللہ خان کو رات کے وقت قریبی سول لائنز تھانے کے لاک اپ میں رکھا جائے گا۔ انہیں صبح 12 بجے کے بعد متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا، ساتھ ہی اے سی بی امانت اللہ خان کے ریمانڈ کی اپیل کرے گا۔
بتا دیں کہ وقف بورڈ کے پہلے چیئرمین کے طور پر، آپ ایم ایل اے پر وقف کی جائیدادوں کو غیر قانونی طور پر کرایہ پر دینے، وقف بورڈ میں 33 لوگوں کو غلط طریقے سے بھرتی کرنے اور گاڑیوں کی خریداری میں گھپلے کا الزام ہے۔ یہ کیس اے سی بی نے 2020 میں درج کیا تھا۔


سمیر چودھری۔