وائرل بخار کے سبب اسپتال میں مریضوں کی بھیڑ، ضلع اسپتال میں ایک۔ایک بیڈ پر دو۔دو مریضوں کا چل رہا علاج۔
دیوبند: سمیر چودھری۔
ضلع سہارنپور میں وائرل بخار کا قہر کم نہیں ہورہا ہے جس کی وجہ سے اسپتالوں کا برا حال ہے ، عالم یہ ہے کہ ضلع اسپتال میں ایک بیڈ پر دو دو مریضوں کا علاج چل رہا ہے، دیہی علاقوں کے سرکاری اسپتالوں پر بھی بخار کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ، گزشتہ دو مہینوں میں تقریباً بخار کے 8ہزار مریضوں نے علاج کرایا۔

موسم کے اتار چڑھاﺅ نے لوگوں کو بیمار کردیا ہے ، سرکاری اور غیرسرکاری اسپتالوں میں بھیڑ اس قدر بڑھی ہے کہ وہاں پر مریض ہی مریض نظر آرہے ہیں۔ دیوبند ، گنگوہ، نکوڑ، ناگل، سڈولی قدیم وغیرہ علاقوں کے گاﺅں میں بخار کا قہر بہت زیادہ ہے ، وہاں کی صورت حال یہ ہے کہ بخار سے گھر گھر میں لوگ بیمار ہیں ، ایس بی ڈی ضلع اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں صورت حال بے حد خراب ہے، یہاں پر مریضوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے بیڈ کم پڑگئے ہیں۔ ایک بیڈ پر دو دو مریضوںکا علاج چل رہا ہے ، اس سے مریضوں کو پریشانی ہورہی ہے ، اسپتال کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو مہینوں کی او پی ڈی میں 70سے 80ہزار مریض پہنچے ہیں ، ان میں تقریباً 8ہزار بخار کے مریض شامل ہیں۔ اسی طرح گاﺅں کے سرکاری اسپتالوں کی بات کریں تو یہاں بھی بخار کے مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ 90فیصد وائرل بخار کے مریض ناگل کے سرکاری اسپتال میں گزشتہ دو مہینوں میں تقریباً 500مریض بخار کے آئے ہیں ، اسپتال کے انچارج ڈاکٹر نتن کمار نے بتایا کہ 90فیصد مریض وائرل بخار کے اسپتال پہنچ رہے ہیں ، 10فیصد ٹائیفائڈ اور ملیریا کے ہیں ۔ گاﺅں پہاڑپور میں 15مریضوں کی اطلاع ملی ہے ، یہاں پر کیمپ لگایا گیا اور مریضوں کی جانچ کی گئی ۔ اسی طرح گاﺅں اسماعیل پور میں بھی بخارکے مریض مل رہے ہیں، گنگوہ سرکاری اسپتال پر 550نئے اور 250پرانے مریض علاج کرانے کے لئے آرہے ہیں، گزشتہ دو مہینوں میں سب سے زیادہ بخار کے مریض اسپتال میں آرہے ہیں۔

اسپتال کے انچارج ڈاکٹر روہت والیہ نے بتایا کہ ہر روز دیہی علاقوں میں ٹیم بھیج کر کیمپ لگوائے جارہے ہیں ، ان کیمپوں میں بھی بخار کے مریضوں کی تعداد زیادہ ہے ، جانچ میں ڈینگو اور ملیریا کی تصدیق نہیں ہورہی ہے ۔ بہٹ قصبہ کے سرکاری اسپتال پر بھی مریضوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں ، ہر روز بخار کے ساتھ ساتھ دیگر بیماریوں کے مریض پہنچ رہے ہیں ، یہاں پر گزشتہ 20روز میں 850مریض آئے ہیں۔ اسپتال کے انچارج ڈاکٹر نتن کندوال نے بتایا کہ زیادہ تر مریض وائرل سے متاثر ہیں، ایک دو مریضوں میں ٹائیفائڈ اور ملیریا کی علامتیں مل رہی ہیں ، ابھی تک کسی بھی مریض میں ڈینگو کی علامت نہیں ملی ہے۔ اس سلسلہ میں سی ایم او ڈاکٹر سنجیو مانگلگ نے بتایا کہ بدلتے موسم کی وجہ سے بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے ، سب سے زیادہ لوگ وائرل بخار سے متا ¿ ثر ہیں، سرکاری اسپتالوں میں علاج کی سہولت موجود ہے ۔ مریض بھرتی کے لئے بیڈ وارڈ میں بیڈ میں اضافہ کرنے کے احکامات دیدیئے گئے ہیں۔