مدارس کے سروے پر یوگی حکومت پر برسی مایاوتی، بولی مسلمانوں کے چندے سے چلنے والے مدارس پر بی جے پی حکومت کی ٹیڑھی نظر۔ 
لکھنؤ: اتر پردیش حکومت غیر تسلیم شدہ مدارس میں بنیادی سہولیات کے حوالے سے سروے کر رہی ہے، جس کے لیے بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے یوگی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ مایاوتی نے کہا کہ مدارس کے سروے کے نام پر حکومت مسلمانوں کے چندے سے چلائے جانے والے پرائیویٹ مدارس میں مداخلت کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو کہ غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو سروے کرنے کے بجائے سرکاری گرانٹ سے چلنے والے مدارس اور اسکولوں کی حالت بہتر کرنے پر کام کرنا چاہیے۔

مایاوتی کا بی جے پی پر حملہ۔
بی ایس پی سپریمو نے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ٹوئٹ کیا اور کہا کہ ''کانگریس کے دور میں مسلم سماج کے استحصال، نظر انداز کیے جانے اور فسادات کا شکار ہونے کی شکایات عام رہی ہیں، اس کے بعد بی جے پی "ٹوشتی کرن' کے نام پر سیاست کرکے اقتدار میں آئی۔ ان کے آنے کے بعد اب ان کے جبر اور دہشت کا کھیل جاری ہے جو کہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک اور ٹویٹ کیا جس میں لکھا کہ ’’اس سلسلے میں اب یوپی میں مدارس پر بی جے پی کی حکومت کی ٹیڑھی نظر مدرسہ سروے کے نام پر مسلمانوں کے چندے پر چلنے والے مدارس میں مداخلت کی کوششیں غلط ہیں، جبکہ حکومت کو چاہیے کہ وہ سرکاری امداد یافتہ مدارس اور سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر کرنے پر توجہ دے۔

مدارس کے سروے پر برہمی کا اظہار کیا۔
درحقیقت یوپی حکومت نے ریاست کے تمام ضلع مجسٹریٹس کو ہدایت دی ہے کہ وہ مدارس کے تعلیمی نظام کے بارے میں سروے کریں۔ جس کا مقصد ریاست کے تمام غیر سرکاری مدارس اور وہاں کے نظام تعلیم سمیت بنیادی سہولیات کے بارے میں معلومات جمع کرنا ہے۔ اس کے لیے ایک سروے ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس میں ایس ڈی ایم، بی ایس اے اور ضلع اقلیتی افسر شامل ہوں گے۔ سروے کے بعد یہ رپورٹ حکومت کو بھیجی جائے گی۔

سمیر چودھری۔