آسام میں توڑے گئے مدارس کی سرکاری خرچ پر دوبارہ تعمیر ہوگی، مدارس میں قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے کیلئے کمیٹی کا قیام۔
گوہاٹی: بعض ہندی نیوز پورٹلوں اور آسامی زبان کی ویب سائٹوں پر یہ دعویٰ کیاجارہا ہے کہ آسام کے بنگائی گائوں ضلع کے کبائٹاری مرکزالمعارف مدرسے کو بلڈوزر سے توڑا گیا تھا پھر سے سرکاری خرچ پر اسے بنایاجائے گا۔ یہ بھی کہاجارہا ہے کہ اتوار کو ڈائریکٹر جنرل آف پولس بھاسکر جیوتی مہنت سنگھ کے ساتھ آسام کی مسلم تنظیموں کی میٹنگ میں جیوتی نے کہاکہ اس مدرسے کو دوبارہ سرکاری خرچ پر تعمیر کیاجائے گا۔ بتادیں کہ مدرسوں میں مشتبہ جہادیوں اور مدرسوں کو توڑے جانے کو لے کر ڈی جی پی دفتر میں مسلم تنظیموں کے ساتھ اتوار کو اہم میٹنگ ہوئی اس میں چار مسلم تنظیموں نے حصہ لیا تھا اس اہم میٹنگ میں جمعیۃ علمائے ہند ، آسام اسٹیٹ کمیٹی، ندوۃ التعمیر، اہل سنت والجماعت، اہل حدیث اور اسلامک ریسرچ سینٹر آف آسام جیسی تنظیمیں شامل تھیں۔ میٹنگ کے بعد پولیس سپڑیٹنڈنٹ بھاسکر جیوتی مہنت نے مسلم تنظیموں اور مدرسہ اور بورڈ میں قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے اور ریاست کے باہر کے شخص کو امام رکھنے کے سلسلے میں ضابطہ پر عمل کرنے کی اپیل کی۔مہنت نے اتوار کو مسلم تنظیموں کے لیڈروں اور مدرسہ بورڈ کے ناظم کے ساتھ میٹنگ کی اور ان سے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مدد کر نے کی اپیل کی۔ انھوں نے کہا، ”ہم نے اماموں کی شناخت سنجیدگی کرنے کی اپیل کی ہے۔پولیس جلد ہی ایک ویب سائٹ کا افتتاح کرے گی، جس میں مدرسوں اور اساتذہ کے بارے میں تمام معلومات مہیا کرائی جائے گی“۔انھوں نے مدرسوں میں حساب، سائنس اور انگریزی کے علاوہ مذہبی تعلیم دینے کی اپیل کی۔ مسلم تنظیموں نے ہدایات پر عمل کرنے کے لیے چھ مہینے کا وقت مانگا ہے۔ سروے کے مطابق ریاست میں ایک ہزار سے زیادہ غیر رجسٹرڈ مدرسے یا اس طرح کے ادارے چل رہے ہیں۔