پاکستان: سیلاب کی صورتحال اب تک کا سب سے بڑا چیلنج، تباہی کے درست اندازےکے لیے سیلاب زدہ علاقوں کی سیٹلائٹ سے مانیٹرنگ۔
نئی دہلی: پاکستان ان دنوں سیلاب کی قدرتی آفت سے نبرد آزما ہے۔ ملک کے چاروں صوبے رواں سال کے سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ حالیہ سیلاب ملکی تاریخ میں آنے والی بدترین قدرتی آفات میں سے ایک ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس خود پاکستان آئے اور سیلاب کی تباہ کاریوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
فوج سمیت کئی ملکی ادارے اس وقت شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔ اب تک 1300 سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
جتنے بڑے پیمانے پر سیلاب نے تباہی مچائی ہے پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج سیلاب کی صورت حال ہوگی کیونکہ کھڑی فصلوں، مال مویشی، گھروں اور انفراسٹرکچر کی تباہی براہ راست ملکی معیشت پر اثر انداز ہوگی۔
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) سمیت صوبائی حکومتیں اس سیلاب کی تباہ کاری کے تخمینوں اور دیگر معاملات میں مصروف ہیں۔
این ڈی ایم اے اس وقت سب سے زیادہ بھروسہ ان دوسیٹلائٹس پر کر رہا ہے جو اس وقت لمحہ بہ لمحہ سائنسی بنیادی پر معلومات فراہم کر رہے ہیں۔
پاکستان کے خلائی تحقیقاتی ادارے سپارکو کے مطابق دو سیٹلائٹ پی آر ایس ایس زیرو ون اور پاک پیس ون اے اس وقت سیلاب زدہ علاقوں کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔
سپارکو کے ایک اعلٰی افسر نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ہمارے دونوں سیٹلائٹ دن میں چار مرتبہ ڈیٹا فراہم کرتے ہیں جو کہ براہ راست این ڈی ایم اے کو فراہم کر دیا جاتا ہے جس سے بدلتے وقت کے ساتھ سیلاب کی صورت حال کو انتہائی بہتر انداز میں دیکھا جاسکتا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’ان سیٹلائٹس میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ نہ صرف یہ پانی کی مقدار اور اونچ نیچ کو مانیٹر کر رہے ہیں بلکہ یہ ہمیں تباہی کے درست اندازے کے قریب بھی پہنچا رہے ہیں۔‘
سپارکو کے اعلٰی افسر نے مزید بتایا کہ ’سیٹلائٹ ڈیٹا سے بہت باریک بینی سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس کھیت میں پانی سے پہلے کون سی فصل تھی۔ سڑکوں کی پہلے کی صورت حال کیا تھی اور اب کیا ہے۔‘
’اسی طرح گھروں میں ہونے والی توڑ پھوڑ کا درست اندازہ بھی لگایا جا رہا ہے۔ سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا انتہائی مستند ہے۔ جب بحالی کا کام شروع ہوگا تو لوگوں کی طرف سے داخل کیے جانے والے کلیمز کا سیٹلائٹ ڈیٹا سے موازنہ کیا جائے گا کیونکہ ہمارے پاس تباہی سے پہلے اور تباہی کے بعد کا سارا ڈیٹا موجود ہے۔‘
سپارکو کے مطابق ریسکیو آپریشنز میں بھی سیٹلائٹ ڈیٹا نے بہت مدد فراہم کی ہے۔ بلوچستان اور سندھ کے دور دراز کے علاقوں میں پھنسے ہوئے افراد کی نشاندہی کی گئی اور انہیں بروقت ریسکیو کیا گیا۔
سپارکو کے اعلٰی افسر کے مطابق ’اب تک 450 سے زائد ریسکیو آپریشنز میں سیٹلائٹ سے لی گئی معلومات نے مدد فراہم کی ہے۔‘