مدرسہ کو کٹہرہ میں کھڑا کرنا مناسب نہیں:  روبرو۔عبدالماجد نظامی۔
ہندوستان کے مدارس ملک کے دستور میں دی گئی مذہبی آزادی اور اس میں موجود ان دستوری شقوں کی روشنی میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں جن کے تحت تمام اقلیتی طبقوں کو اپنے ادارے چلانے کا حق حاصل ہے۔ مدارس پر بے بنیاد الزامات تو ہمیشہ لگائے گئے ہیں لیکن آج تک یہ ثابت نہیں کیا جا سکا ہے کہ کسی بھی ملک یا دستور مخالف عمل میں مدارس کے ذمہ داران یا ان کے طلبا شامل رہے ہوں۔ مدارس کے لئے جہاں کہیں بھی مسائل کھڑے کئے جاتے ہیں وہاں در اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلم اقلیت کی نفسیات پر ضرب لگائی جائے اور ان کے اعتماد نفس کو توڑ دیا جائے تاکہ بے ہمتی کے اوصاف سے متصف قوم کو اپنے اس خاص ڈھانچہ میں ڈھالنا آسان ہو جس کو بدقسمتی سے اس ملک کی فرقہ پرست طاقتوں نے تیار کیا ہے اور جس کو آج مکمل اقتدار حاصل ہے۔ مدارس کو صرف اس لئے نشانہ نہیں بنایا جاتا ہے کہ وہاں جدید تعلیم سے آراستہ افراد تیار نہیں کئے جاتے ہیں یا وہاں سے ڈاکٹرس یا انجینئرس کی کھیپیں ڈھل کر نہیں نکلتی ہیں۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو کرناٹک کی ان مسلم بچیوں کے ساتھ عدم مساوات اور تعصب کا برتاؤ نہیں کیا جاتا جو جدید تعلیم کے حصول کے لئے کالجوں میں پڑھ رہی تھیں اور ان میں سے ایک بڑی تعداد ڈاکٹرس اور انجینئرس بھی بن کر نکلتی جو بعد میں اپنے ملک اور معاشرہ کی ترقی میں اہم کردار نبھاتی۔ لیکن اس حقیقت سے شاید ہی کوئی انکار کر سکتا ہے کہ ان مسلم بچیوں کی تعلیم و ترقی کے راستے میں روڑے اٹکائے ہی صرف اس لئے گئے کیونکہ وہ اپنی مذہبی تشخص کے ساتھ تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ اس مذہبی تشخص کی حفاظت کرنے اور اس کو اپنی روز مرہ کی زندگی میں برتنے کی اجازت ہمارا دستور بھی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستانی معاشرہ ہمیشہ مذہبی رواداری اور بقائے باہم کے اصولوں پر مبنی سماج رہا ہے جہاں مذہبی تکثیریت کبھی آپسی عناد اور سماجی ٹکراؤ کا ذریعہ نہیں رہی ہے۔ اس کے برعکس ہر مذہب و مشرب کے لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے رہے ہیں۔ اگر نفرت کی سیاست ملک کے رگ و پے میں سرایت نہیں کرتی اور بعض اداروں و افراد کے ذریعہ اقلیت دشمنی پر مبنی ماحول نہ بنایا گیا ہوتا تو کوئی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ یہ ملک جہاں کے لوگ پاکیزہ جذبات کے حامل ہوتے ہیں اور جن میں مشکل کے وقت اپنے دشمن اور حریف تک کی داد رسی اور مزاج پرسی کا عنصر پایا جاتا ہے، وہ کبھی اپنے ہی ہم وطنوں کے مذہبی مقامات پر حملے کرکے ان کو شہید کر دیں گے یا دوسروں کی ماں بہنوں کی عصمت تار تار کرکے ان کو تہ تیغ کر دیں گے۔ اگر اترپردیش، آسام اور اتراکھنڈ جیسی سرکاریں واقعتا ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے اور ملک کے نونہالوں کو مناسب تعلیم مہیا کروانے کے معاملہ میں سنجیدہ ہوتیں تو وہ سب سے پہلے آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کے ذریعہ چل رہے اداروں کا سروے کرتیں اور ملک کے سامنے ان کی تصویر اور ان کے نظریۂ تعلیم کا خاکہ پیش کرتیں جس سے اندازہ ہوپاتا کہ آخر وہاں پڑھنے لکھنے والے بچے اور بچیوں کو کس طرح کے مستقبل کے لئے تیار کیا جا رہا ہے۔ جہاں تک مدارس اسلامیہ کے سروے کا تعلق ہے تو تمام ذمہ دارانِ مدارس نے کھلے دل سے اس کا استقبال کیا ہے اور ان تمام سوالوں کے جوابات دیے گئے ہیں جو ان سے مطلوب تھے۔ اس سروے کا نتیجہ جب پیش کیا جائے گا تب مزید واضح تصویر سامنے آئے گی اور مستقبل میں غالباً حکومت کی جانب سے بعض ہدایات بھی جاری کی جائیں گی جن کی روشنی میں مدارس کو چلایا جائے گا۔ اس پہلو سے مسلمانوں میں کوئی بے چینی نہیں پائی جاتی ہے۔ البتہ ملک کی مسلم اقلیت اس بات سے ضرور پریشان ہے کہ اس کے دین و مذہب، طرز لباس و معاش، خورد و نوش کے طور طریقے یہاں تک کہ نکاح و طلاق اور اسلامی تعلیم تک زندگی کا کوئی ایسا پہلو نہیں بچا ہے جس میں بے جا مداخلت کرکے کمیونٹی کو ہراساں نہ کیا گیا ہو اور ان کا عرصۂ حیات تنگ نہ کیا گیا ہو۔ مدارس کے سروے کو بھی اسی پہلو سے اگر دیکھا جا رہا ہے تو اس میں ملک کی مسلم اقلیت کی غلطی نہیں ہے بلکہ اس کے لئے موجودہ سرکار کی نیتی ونیت کا قصور ہے جس کی وجہ سے بے اعتمادی کی خلیج گہری ہوتی چلی گئی ہے۔ اگر موجودہ سرکار واقعتا مسلم اقلیت کے درمیان کسی بھی قسم کا فلاحی کام انجام دینا چاہتی ہے اور ان کے ساتھ انصاف سے کام لینا چاہتی ہے تو اس کے لئے مناسب اقدام یہ ہوگا کہ ان کے ساتھ وہی برتاؤ کرنا شروع کرے جو ملک کے کسی بھی شہری کے ساتھ دستور کی روشنی میں کیا جانا چاہئے۔ مسلم اقلیت سرکار سے کسی امتیازی برتاؤ کی نہیں بلکہ مساوی برتاؤ کی توقع رکھتی ہے۔ اگر ایسا کیا جائے گا تو پھر سرکار کا کوئی بھی دستوری اقدام شک و شبہ کی نظر سے نہیں دیکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ اگر کمیونٹی میں کسی اصلاحی اقدام کی ضرورت ہے تو یہ بھی مناسب ہوگا کہ کمیونٹی کے ممبران کو اعتماد میں لے کر ایسی اصلاحات کی جائیں جو کہ نافذ العمل ہوں۔ سروے یا انہدامی کارروائیوں کے ذریعہ مدارس اور ان کے ذمہ داران کو مورد الزام ٹھہرانا اور انہیں کٹہرے میں کھڑا کرنا مناسب نہیں ہے۔ جہاں تک مدارس کے نصاب میں اصلاح یا طلبا کی تربیت میں مطلوب تبدیلی کا تعلق ہے تو خود مسلمانان ہند کا دانشور طبقہ مسلسل تنقیدی تحریروں اور مشوروں کے ذریعہ اپنی بات پہنچاتا رہتا ہے اور ذمہ داران کے ذریعہ مناسب اور ضروری تبدیلیاں کی جاتی رہتی ہیں۔ اس لئے یہ باور کرانا کہ مدارس میں صرف انجماد کا ڈیرہ ہے اور وہاں وقت اور حالات کے تقاضوں کے تحت کوئی تبدیلی نہیں کی گئی محض جہل اور لاعلمی کا غماز ہے۔ مختلف ریاستوں میں مدارس کو منظم کرنے اور ان کا سروے کرواکر وہاں سرکاری نگرانی کا جو انتظام کیا جا رہا ہے اس میں اس بات کا خاص طور پر لحاظ رکھا جائے کہ پوری ایمانداری سے یہ سروے ہو اور ایسی رہنما ہدایات دی جائیں جو مدارس کے امتیاز اور دستوری آزادی سے متصادم نہ ہوں۔ ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ مدارس پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کا جو بے بنیاد الزام لگایا جاتا رہا ہے اس کا سلسلہ بھی ختم ہو تاکہ مدارس کے فارغین کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کا سلسلہ بند ہو سکے۔ مدارس ملک کی شرح تعلیم میں اضافہ کے مراکز اور ترقی کی سیڑھیاں مہیا کرنے والے وہ ادارے ہیں جن کو محفوظ رکھنا اور ان کی ترقی کے لئے وسائل فراہم کرانا سب کی ذمہ داری ہے۔

(مضمون نگار روزنامہ راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر ہیں)
editor.nizami@gmail.com