بسم اللہ الرحمن الرحیم 
دیوبند کی فضاء ایک مرتبہ پھر سوگوار: مفتی محمد عفان منصورپوری۔

✒️ : محمد عفان منصورپوری
       14 / صفر المظفر 1444ھ 
       12 / ستمبر 2022ء
 دارالعلوم وقف دیوبند کے مؤقر استاذ حدیث حضرت مولانا سید نسیم اختر شاہ قیصر علیہ الرحمہ کے اچانک سانحہ وفات کی خبر سے طبیعت بڑی مغموم ھے ، ھمیں تو ان کی علالت کی خبر بھی ایک ڈیڑھ ھفتہ قبل برادر محترم مولانا سید عبید انور شاہ صاحب کی سوشل میڈیا پر وائرل ایک تحریر کے ذریعہ ھوئی تھی ، اندازہ تھا کہ کمر کی تکلیف ھے جو عام طور پر لوگوں کو ھو ھی جاتی ھے کچھ دن آرام کریں گے ٹھیک ھوجائیں گے ، یہ تصور تو دور دور تک تھا ھی نہیں کہ یہ بیماری مرض الوفات بھی ثابت ھوسکتی ھے ؛ اس لئے اچانک انتقال کی خبر سنکر طبیعت بہت متاثر ھوئی ، اللہ پاک کے حضور دعاء مغفرت کی اور بعد درس طلبہ کو جمع کرکے ایصال ثواب کا اھتمام بھی کیا ، باری تعالٰی مولانا کی مغفرت تامہ فرمائیں ، جنت الفردوس میں اعلی مقام سے سرفراز فرمائیں اور پسماندگان و متعلقین اور تلامذہ کو صبر جمیل سے نوازیں ۔

   مولانا سے ھماری زیادہ تر ملاقاتیں اتفاقی ھی رھیں ، دیوبند میں اکثر و بیشتر راہ چلتے ان سے ملاقات ھوتی یا کسی دعوت و تقریب میں ملتے اور بعض دفعہ کسی تقریری پروگرام میں ساتھ ھوجاتا ، مولانا ھر اعتبار سے ھم سے بڑے تھے ، ھم ان کے شاگردوں کے درجہ میں تھے ، لیکن کبھی ایسا نہیں ھوا کہ مولانا نے سرسری انداز میں ملنے پر اکتفا کیا ھو جب بھی ملے پوری توجہ ، خندہ پیشانی ، بشاشت اور طیب خاطر کے ساتھ پیش آئے راستہ میں بھی ملاقات ھوجاتی تو دو ایک منٹ کے لئے رک جاتے اپنے خاص انداز میں حال چال معلوم کرتے اس کے بعد تشریف لے جاتے ۔

   بقرعید کی چھٹیوں میں دیوبند جانا ھوا تو مولانا کے دولت کدے کے سامنے واقع محلہ خانقاہ کی مسجد میں نماز عشاء پڑھنے کا اتفاق ھوا ، ھم مسجد سے نکلے تو مولانا اپنے دروازے پر کھڑے تھے ، گھر آنے کی دعوت دی فرمانے لگے آپ کے انتظار میں تھا چائے پی لیجئے ، ھم قریب میں واقع اپنی ھمشیرہ کے یہاں کھانے پر مدعو تھے ؛ اسلئے مولانا سے آئندہ حاضری کے وعدہ کے ساتھ اس وقت معذرت کرنی پڑی ، کیا معلوم تھا کہ یہ آخری ملاقات ثابت ھوجائے گی ، آج وہ سارا منظر اور اس طرح کے دیگر مواقع نظروں کے سامنے گھوم رہے ھیں اور شدت کے ساتھ مولانا کی جدائیگی کا احساس ھورھا ھے ۔

   مولانا اپنی خاندانی شرافت اور عالی نسبت کے ساتھ ساتھ زبان و بیان ، عادات و اطوار اور علم و ادب کے حوالہ سے ایک معتبر اور نمایاں مقام پر فائز تھے ۔

   مولانا کی تحریر سھل ، رواں ، معلوماتی ، دلچسپ اور ادبی چاشنی سے لبریز ھوا کرتی تھی ، خاکہ نگاری ، شخصیات کا تذکرہ اور کسی واقعہ کی عکاسی میں تو ان کا قلم جوبن میں ھوتا تھا ، جملوں کی ساخت و بناوت ، مناسب تعیرات کا بر موقع استعمال اور اسلوب کی ندرت و جادو بیانی قاری اور پڑھنے والے کو اپنا اسیر کرتی چلی جاتی تھی ، یہی وجہ ھے کہ جو آپ کا مضمون پڑھنا شروع کردیتا تو ختم کئے بغیر اسے اطمینان نہ ھوتا ؛ بلکہ مزید کی چاھت اور پیدا ھوجاتی ، قلم کی یہ طاقت ان کو اپنے والد بزرگوار سے ورثہ میں ملی تھی ، وہ شھر دیوبند کے ادبی اور علمی حلقوں کی جان اور پہچان ھوا کرتے تھے ۔

   مبدا فیاض سے مولانا کو خطابت کا بھی مؤثر اور شاندار سلیقہ عطا کیا گیا تھا ، وہ واقعتا قادر الکلام تھے ان کے بیان میں برجستگی ، تسلسل اور زیر وبم کے ساتھ ساتھ شائستگی کا عنصر نمایاں رھتا تھا ، وہ مجمع اور موقع کی مناسبت سے کہیں پرجوش بیان کرکے سامعین کے قلوب کو گرمادیا کرتے تھے اور کہیں سبک انداز میں اصلاحی گفتگو کرتے ھوئے سننے والوں کے دلوں کو جذبہ عمل سے سرشار کرتے تھے ، مولانا کی خطابت میں اپنے محترم چچا حضرت مولانا سید انظر شاہ کشمیری علیہ الرحمہ کا رنگ و آھن غالب طور پر دکھائی دیتا تھا ۔

   مولانا کی حیات و خدمات ، عادات و خصائل اور انداز درس وغیرہ موضوعات پر لکھنے کا حق تو مولانا کے خلف الرشید ، اھل خانہ ، تلامذہ اور متعلقین ھی ادا کرپائیں گے ھم تو اتنا جانتے ھیں کہ مولانا ایک اچھے ، سچے ، خوش مزاج ، بلند کردار ، متواضع ، مرنجامرنج اور سادہ طبیعت کے عالم باعمل اور سخن ور انسان تھے ، ان کی شخصیت باغ و بہار تھی وہ تکلفات سے پاک زندگی گزارنے کے عادی تھے ، وہ بڑوں کے درمیان بڑے اور چھوٹوں کے درمیان بھی ان سے گھل مل کر رھا کرتے تھے ، دیوبند کی فضائیں اب انہیں یاد کرتی رھیں گی اور شھر کی ادبی محفلیں ان کے بغیر سونی سونی ھوں گی۔ دعاء ھے باری تعالٰی مولانا کی دینی خدمات کو شرف قبول نصیب فرمائیں اور اعلی علیین میں جگہ عنایت فرمائیں۔