امانت اللہ خان کے بزنس پارٹنر حامد علی بھی گرفتار، اوکھلا ایم ایل اے کو چار دن کے ریمانڈ پر بھیجا گیا، کیجری وال کو کئی ایم ایل اے کی گرفتاری کا خدشہ، سسودیاامانت اللہ کی گرفتاری پر برہم۔
نئی دہلی: آپ ایم ایل اے امانت اللہ خان کو دہلی کی رائوج ایوینو کورٹ میں ڈسٹرکٹ جج کے سامنے سنیچر کو پیش کیاگیا، یہاں سے انہیں سماعت کےلیے اسپیشل جج وکاس ڈھل کی عدالت لے جایاگیا، اسیشل جج سے دہلی اے سی بی نے امانت اللہ خان کی ۱۴ دن کی کسٹڈی طلب کی، جج نے اے سی بی کی درخواست قبول کرتے ہوئے ۱۴ دن کے بجائے چار دن کا ریمانڈ دے دیا ہے۔ کورٹ میں پیشی سے قبل امانت اللہ خان نے کہاکہ مجھے بلاوجہ پھنسایاجارہا ہے۔ ادھر دہلی پولیس نے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان کے بزنس پارٹنر حامد علی کو گرفتار کر لیا ہے۔ حامد کے گھر سے ایک پستول اورمبینہ طور پر ۱۲؍لاکھ روپے کی نقدی برآمد ہوئی ہے۔نئی دہلی کے اوکھلا اسمبلی حلقہ سے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان کے بزنس پارٹنر حامد علی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ساؤتھ ایسٹ دہلی پولیس نے حامد علی کو آرمس ایکٹ کے تحت گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے حامد علی کے گھر سے ایک بریٹا پستول، کچھ گولیاں اور ۱۲؍لاکھ روپے کی نقدی برآمد کی ہے۔ دہلی کی انسداد بدعنوانی برانچ (دہلی اے سی بی) نے کل امانت اللہ خان کے گھر کے ساتھ ساتھ حامد علی کے احاطے پر چھاپہ مارا تھا۔امانت اللہ خان اوران کے ساتھیوں کیخلاف تین ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ حامد علی اور کوثرایمان صدیقی کے خلاف آرمز ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ کوثر امام صدیقی کے ٹھکانے سے ایک دیسی ساختہ پستول اور تین زندہ کارتوس برآمد ہوئے ہیں۔ صدیقی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ چھاپے میں رکاوٹ ڈالنے کا تیسرا معاملہ بھی اے سی بی نے درج کیا ہے۔ اس میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ چھاپہ مارنے والی اے سی بی ٹیم کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران امانت اللہ کے رشتہ داروں اور جاننے والوں نے ان پر حملہ کیا۔ اے سی بی نے کل عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان کو گرفتار کیا تھا۔اے سی بی دو سال پرانے بدعنوانی کیس کی جانچ کر رہا ہے۔ ۲۰۲۰میں امانت اللہ خان کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ دہلی وقف بورڈ کی بھرتی میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات تھے۔ امانت اللہ خان دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین ہیں۔ اے سی بی نے امانت اللہ خان کے گھر اور دیگر مقامات سے چھاپوں کے دوران ۲۴لاکھ روپے نقد اور ایک غیر لائسنس یافتہ ہتھیار برآمد کیا ہے۔قبل ازیں اے سی بی نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے سکریٹریٹ کو ایک خط لکھ کر امانت اللہ خان کو وقف بورڈ کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست کی تھی۔ اے سی بی نے خط میں دعویٰ کیا تھا کہ امانت اللہ خان نے گواہوں کو ڈرا دھمکا کر تفتیش کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔امانت اللہ خان کے خلاف اے سی بی کی کارروائی پر عام آدمی پارٹی نے کہا کہ یہ بی جے پی کی سازش ہے اورعام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے کو زبردستی پھنسایا جا رہا ہے۔ دریں اثناء دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ایم ایل اے امانت اللہ خان کی گرفتاری پر نام لیے بغیر بی جے پی کو نشانہ بنایا۔ کجریوال نے ٹویٹ کیا کہ پہلے انہوں نے ستیندر جین کو گرفتار کیا۔ عدالت سے بار بار طلب کرنے کے باوجود وہ کوئی ثبوت پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ پھر منیش کے گھر پر چھاپہ مارا ، یہاں بھی کچھ نہیں ملا۔ اب امانت اللہ خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کجریوال نے خدشہ ظاہر کیا کہ ابھی کئی اور ایم ایل اے گرفتار کئے جائیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ گجرات میں بہت تکلیف میں ہیں۔امانت کی اہلیہ شفیعہ خان نے لکھا کہ امانت اللہ صاحب کے اے سی بی آفس جانے کے بعد پولیس افسران گھر پہنچے اور تلاشی لی۔ اس ویڈیو میں واضح طور پر سنا جا سکتا ہے کہ پولیس افسران کہہ رہے ہیں کہ تلاشی سے کچھ نہیں ملا ،لیکن میڈیا جسے جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، مکروہ طریقہ سے جھوٹی خبریں چلا کر گمراہ کر رہا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ اے سی بی نے امانت اللہ خان کے گھر اور دیگر مقامات سے چھاپوں میں۲۴ لاکھ روپے نقد اور ایک غیر لائسنس یافتہ ہتھیار برآمد کیا ہے۔ ادھر دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سیسودیا نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ اس سے قبل انہوں نے ستیندر جین کو گرفتار کیا تھا، لیکن عدالت میں ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ انہوں نے میرے گھر پر چھاپہ مارا، کچھ نہیں ملا۔ پھر کیلاش گہلوت کے خلاف فرضی تحقیقات شروع کی، اور اب ممبراسمبلی امانت اللہ خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے ایک ایک لیڈر کو توڑنے کے لیے آپریشن لوٹس جاری ہے۔