مدرسہ سروے کے بعد کوئی کارروائی نہیں ہوگی، اقلیتی طبقے کو سہولت پہنچانے کےلیے یہ قدم اُٹھایاگیا: وزیر مملکت دانش آزاد۔
لکھنو : اترپردیش کے وزیر مملکت دانش آزاد انصاری نے کہا کہ اقلیتیوں کے درمیان مدرسہ سروے کے حوالے سے جو بھی افواہ پھیلائی جارہی ہے وہ بالکل بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سروے کے بعد کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ یوگی حکومت نے اقلیتی طبقے کو بہتر سہولت مہیا کرانے کے مقصد سے سروے کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش میں محکمہ تعلیم کی جانب سے تعلیمی اداروں کا وقت وقت پر سروے کیا جاتا رہا ہے ۔وہ چاہے گروکل ہو یا ششو مندر یا سرکاری پرائمری اسکول ہو ۔تاکہ اعداد و شمار کے مطابق سہولت مہیا کرایا جاسکے۔مدارس سروے کے بعد کوئی کارروائی نہیں ہوگی: دانش آزادانہوں نے کہا کہ مدرسہ بورڈ سے غیر منظور شدہ مدارس سے متعلق تمام معلومات حاصل کرنے کے ارادے سے اس طرح کے سروے کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔جو لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں وہ اقلیتی طبقے کی بھلائی نہیں چاہتے ہیں۔ریاستی وزیرمملکت نے کہا اس سروے کے بعد کسی بھی قسم کی کوئی کارروائی نہیں ہوگی ۔کسی کو بھی خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ ایک سروے ہے۔ اس کو لے افواہ پھیلانے کی ضرورت نہیں ہے۔دانش آزاد انصاری نے محکمہ صحت کے جوائنٹ ڈائریکٹر تبسم خان کے معطلی کے سوال پر معقول جواب نہیں دہا اور اردو فلاحی اداروں پر بات چیت کرنے لگے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی یوگی آدتھیہ ناتھ نے اردو اکاڈمی اور فخر الدین علی احمد کمیٹی کی مجلس عاملہ کو تشکیل دے کر اہم کام کیا ہے۔