خاتون کے ذریعہ اسپتال احاطہ میں نماز ادا کرنے پر معاملہ درج؟ اویسی کے سخت ردعمل کے بعد پولیس کی وضاحت۔
نئی دہلی: ایک مسلم خاتون پر ہاسپٹل میں نماز ادا کرنے پر مقدمہ درج کیے جانے کی خبروں کے درمیان اتر پردیش پریاگ راج پولیس نے واضح کیا ہے کہ کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے اور یہ خبر جھوٹی ہے۔
ایک دن قبل ایک مسلمان خاتون کی جانب سے ہاسپٹل میں نماز ادا کرنے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔ مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ خاتون کے خلاف اس ویڈیو کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔اس خبر کی ملک بھر کے مسلمانوں کی طرف سے مذمت کی گئی۔ مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے یوپی پولیس کی کارروائی پر تنقید کی۔
انھوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہاسپٹل میں داخل ہو کر، اپنے رشتہ دار کی دیکھ بھال کرتے ہوئے کسی کونے میں کسی کو تکلیف دیے بغیر، اپنے مذہب کے مطابق نماز پڑھتے ہیں تو اس میں کیا جرم ہے؟ کیا یوپی پولیس کے پاس کوئی اور کام نہیں ہے؟ جہاں بھی نماز پڑھی جاتی ہے نمازیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جاتی ہے۔ صدر مجلس کے ٹویٹ کے بعد پولیس کی وضاحت سامنے آئی ہے۔ 

اُردو لیکس۔