ملعون سلمان رشدی معاملہ: امریکہ نے ایرانی گروپ پر پابندیاں لگادیں۔
واشنگٹن: امریکہ نے ایرانی فاؤنڈیشن کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا ہے، جس پر برطانوی نژاد امریکی مصنف ملعون سلمان رشدی کے سلسلے میں لاکھوں ڈالر کا انعام رکھنے کا الزام ہے۔ ملعون رشدی پر اس سال اگست میں نیویارک میں ایک ادبی تقریب میں چاقو سے حملہ کیا گیا تھا۔جس میں اس کی ایک آنکھ ضائع اور ایک ہاتھ لولا ہوگیا ہے۔ الجزیرہ نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ نے جمعہ کو 15 خرداد فاؤنڈیشن کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا۔ پابندیاں فاؤنڈیشن کے امریکہ میں مقیم کسی بھی اثاثے کو ضبط کرتی ہیں اور عام طور پر اس کے شہریوں کو اس کے ساتھ لین دین کرنے سے روکتی ہیں۔محکمے نے ایک ریلیز میں کہاکہ”فروری 1989 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کے حکم سے مسٹر رشدی کو موت کی سزا سنانے کے بعد سے 15 خرداد فاؤنڈیشن نے ان لوگوں کو لاکھوں ڈالر دیے ہیں جو اس واقعہ کا ارتکاب کرنا چاہتے ہیں۔”انہوں نے بتایا کہ ملعون رشدی پر انعام دینے کے بعد سے 15 خرداد فاؤنڈیشن نے مصنف کو نشانہ بنانے کے لیے انعام میں اضافہ کیا ہے۔‘‘ الجزیرہ نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے حوالے سے بتایا کہ "اس فتوے کا مقصد دہشت گردی اور تشدد کو ہوا دینا، رشدی اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرنا اور دوسروں کو ڈرانا تھا۔”انہوں نے کہاکہ "امریکہ اس قسم کی اشتعال انگیزی اور مسٹر رشدی پر حملے کی شدید مذمت کرتا ہے اور اسے اظہار رائے کی آزادی پر ایک حملہ قرار دیتا ہے۔” رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر امام خمینی نے 1989 میں ملعون رشدی کی کتاب ‘شیطانی آیات’ کی اشاعت پر فتویٰ جاری کیا تھا۔ اس کتاب کو بعض مسلمانوں نے توہین رسالت سمجھا۔