مدارس کے نصاب میں تبدیلی در حقیقت مدا رس کی روح کے منافی ہے۔ مفتی ابوالقاسم نعمانی۔

خطبہ صدارت رابطہ مدارس اسلامیہ
بتاریخ ۳ ربیع الثانی ؁۱۴۴۴ مطابق ۳۰ اکتوبر بروز اتوار۔
آج رابطہ مدارس کے اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا ابو القاسم نعمانی صاحب نے کہا کہ اگر کوئی تنظیم اپنے اغراض و مقاصد کے تحت کام نہیں کرتی تو وہ ایک ڈھانچہ ہے اسی لئے ہم کو چاہئے کہ ہم اپنے أغراض و مقاصد کی تکمیل میں کوشاں رہیں ۔
صحیح تربیت کے بغیر تعلیم کا مقصد فوت ہوجاتا ہے اسی لئے تعلیم کے ساتھ ساتھ طلبہ کی تربیت پر بھی توجہ دی جائے ۔
موجودہ ملکی و عالمی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی بھی منفی سرگرمی سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
مدارس و مکاتب کے تمام کاغذات کو پہلی فرصت میں درست کرایا جائے۔
فرقہ باطلہ کا سر کچلنا بھی مدارس کی ذمہ داری ہے ۔

مجلس عاملہ رابطہ مدارس تاکید کرتا ہے کہ نصاب میں بنیادی تبدیلی اور عصری علوم کی شمولیت کے بارے میں نام نہاد دانشوروں اور عاقبت نا اندیشوں کے مطالبے سے متاثر نا ہوں بلکہ نصاب تعلیم اور نظام تعلیم قدیم اور متوارث خطوط پر ہی قائم و استوار رکھیں؛ البتہ درجہ درجہ پنجم پرائمری تک ایسا نصاب تعلیم اپنے قائم کردہ مدارس میں رائج کریں جو دینیات کے ساتھ ضروری ضروری عصری علوم ،حساب ،جغرافیہ علاقائی زبان اور تاریخ پر مشتمل ہو اور بہتر ہوگا ان مدارس و مکاتب کو حکومت سے منظوری حاصل کرا لیں ۔
یہ اجلاس نصاب تعلیم میں بنیادی تبدیلی کے خیال کو یکسر مسترد کرتا ہے نصاب کی روح کے منافی اور نصب العین کے خلاف سمجھتا ہے۔