وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن سمیت ۱۱؍ افراد وانٹیڈ، اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں امریکی این جی او کے اشتہار پر ہنگامہ، فہرست میں سپریم کورٹ کے جج، ای ڈی اہلکار سمیت ۱۱؍ اہم شخصیات کے نام شامل۔
واشنگٹن: اخبار کے اشتہار میں ہندوستانی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن، سپریم کورٹ کے ججوں، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور دیواس اینٹرکس مقدمے سے منسلک اہلکاروں کو مطلوبہ قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ 
13 اکتوبر کو اخبار میں شائع ہونے والے اس اشتہار میں لکھا ہے کہ 'ملیے ان افسران سے جنھوں نے انڈیا کو سرمایہ کاری کے لیے ایک غیر محفوظ جگہ بنا دیا ہے۔ اس میں 11 لوگوں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور اشتہار کا عنوان 'مودی کی میگتیسکی 11' دیا گیا ہے۔ امریکی حکومت کے سنہ 2016 کے گلوبل میگنیتسکی قانون کے تحت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب غیر ملکی سرکاری اہلکاروں پر پابندی لگائی جاتی ہے۔یہ اشتہار ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن امریکہ کے دورے پر ہیں۔
سیتا رمن بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے 11 اکتوبر کو واشنگٹن پہنچیں اور وہ 16 اکتوبر تک امریکہ میں رہیں گی۔امریکہ کی غیر سرکاری تنظیم فرنٹیئرز آف فریڈم نے یہ اشتہار جاری کیا ہے۔ فرنٹیئرز آف فریڈم کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ایک تعلیمی ادارہ ہے جو 'انفرادی آزادی، طاقت کے ذریعے امن، محدود حکومت، آزاد کاروبار، آزاد منڈیوں اور روایتی امریکی اقدار  کے اصولوں کو فروغ دیتا ہے۔اس اشتہار میں 11 افراد کے نام درج ہیں اور ان کے ساتھ لکھا گیا ہے: 'مودی حکومت کے ان افسران نے سیاسی اور کاروباری حریفوں سے بدلہ چکانے کے لیے ریاستی اداروں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے قانون کی حکمرانی ختم کی ہے، انھوں نے انڈیا کو سرمایہ کاروں کے لیے غیر محفوظ بنا دیا ہے۔اس میں مزید لکھا ہے: 'ہم امریکی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ گلوبل میگنیتسکی ہیومن رائٹس اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ کے تحت ان کے خلاف اقتصادی اور ویزا پابندیاں عائد کرے۔ مودی حکومت میں قانون کی حکمرانی میں کمی آئی ہے اور انڈیا سرمایہ کاری کے لیے ایک خطرناک جگہ بن گئی ہے۔ 'اگر آپ انڈیا میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں تو آپ ایسا کرنے والے چند افراد میں سے ہو سکتے ہیں۔رواں سال اگست میں فرنٹیئرز آف فریڈم نے گلوبل میگنیتسکی انسانی حقوق کے احتساب ایکٹ کے تحت ایک درخواست دائر کی تھی جس میں انڈین حکام پر 'اداروں کے غلط استعمال  کا الزام لگاتے ہوئے کہا گیا کہ حکام 'انڈیا کی مجرمانہ تفتیشی ایجنسیوں اور عدالتوں کے ذریعے احتساب کے مراحل میں تعطل پیدا کر رہے ہیں۔اس پٹیشن کے دستاویز میں یہ درج تھا کہ فرنٹیئرز آف فریڈم یہ پٹیشن دیواس ملٹی میڈیا امریکہ انک اور اس کے شریک بانی رام چندر وشواناتھن کی جانب سے دائر کر رہی ہے۔اخبار میں شائع ہونے والے اشتہار میں جن لوگوں کے نام دیے گئے ہیں ان میں وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن، اینٹرکس کے چیئرمین راکیش ششی بھوشن، سالیسٹر جنرل تشار مہتا، ایڈیشنل سالیسٹر جنرل این وینکٹ رمن، جسٹس ہیمنت گپتا، جسٹس وی راما سبرامنیم، سی بی آئی کے ڈی ایس پی آشیش پاریک، ای ڈی کے ڈائریکٹر سنجے کمار مشرا، ڈپٹی ڈائریکٹر اے صادق محمد نیجنار، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آر راجیش اور خصوصی جج چندر شیکھر شامل ہیں۔فرنٹیئرز آف فریڈم کے بانی اور ریپبلکن سینیٹر جارج لینڈرتھ نے اس اشتہار کو ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 'فرنٹیئرز آف فریڈم کا نیا اشتہار انڈیا کے میگنیتسکی الیون اور وزیر خزانہ کی کارروائیوں کو بے نقاب کرتا ہے، جنھوں نے انڈیا میں قانون کی حکمرانی اور سرمایہ کاری کے ماحول کو تباہ کیا ہے۔ انھوں نے اگلے ٹویٹ میں لکھا کہ 'انڈیا کی میگنیتسکی الیون، نرملا سیتارامن، نریندر مودی اور بی جے پی نے انڈیا میں ممکنہ سرمایہ کاروں کو واضح پیغام دیا ہے کہ انڈیا سرمایہ کاری کے لیے ایک خطرناک جگہ ہے۔ اس اشتہار کے منظر عام پر آنے کے بعد ہندوستان میں بہت سے لوگ اس کی مذمت کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ اس اشتہار کے پیچھے کسی اور شخص کا ہاتھ ہے۔اطلاعات و نشریات کی وزارت میں سینیئر مشیر کنچن گپتا نے ٹویٹ کیا ہے کہ دھوکہ بازوں کی جانب سے امریکی میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرنا شرمناک ہے۔ وال سٹریٹ جرنل میں انڈیا کی حکومت کو نشانہ بنانا حیران کن حد تک قابل نفرت ہے۔اس کے بعد کنچن گپتا نے ٹویٹ میں سوال کیا ہے کہ 'کیا آپ جانتے ہیں کہ اس اور اس طرح کے اشتہارات کے پیچھے کون ہے؟ یہ اشتہاری مہم مفرور رام چندر وشواناتھن چلا رہے ہیں جو دیواس کے سی ای او تھے؟کنچن گپتا اپنی اگلی ٹویٹ میں لکھتے ہیں: 'وشواناتھن انڈیا میں ایک اشتہاری مفرور معاشی مجرم ہیں۔ 
انڈین سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ ان کی کمپنی دیواس بدعنوانی میں ملوث تھی۔ یہ صرف انڈین حکومت کے خلاف مہم نہیں ہے یہ عدلیہ کے خلاف بھی ہے۔ یہ انڈیا کی خودمختاری کے خلاف مہم ہے۔ دوسری جانب برطانوی مڈل ایسٹ سینٹر فار اسٹڈیز اینڈ ریسرچ میں عسکری اور سیاسی امور کے ماہر امجد طحہٰ نے ٹویٹ کیا کہ 'یہ صحافت نہیں بلکہ ہتک آمیز بیان ہے۔ وال سٹریٹ جرنل کی اشتہاری پالیسی کیا ہے؟ یہ صحافت پر بدنما داغ ہے۔ ہم اس تذلیل کے خلاف انڈیا کے ساتھ کھڑے ہیں۔