برادرانِ وطن کے ساتھ رواداری اور پُرامن بقائے باہم کے اصول پر عمل کیا جائے، مشتبہ شخص کو مدارس میں قیام کی اجازت نہ دی جائے۔ دارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس اسلامیہ عربیہ کا کُل ہند اجلاس متعدد تجاویز کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر۔
دیوبند: سمیر چودھری۔
رابطہ مدارس اسلا میہ عربیہ کا کل ہند اجلاس عا م لانا مفتی ابو القاسم نعمانی مہتمم وشیخ الحدیث دارالعلوم دےوبند کی زےر صدارت مےں منعقد ہوا، جس مےں ملک بھر سے تقریباًچھ ہزار سے زائد علماءکرام ومندوبےن مدارس اسلامیہ نے شرکت کی۔ نظامت کے فرائض مولانا شوکت علی قاسمی بستوی ناظم عمومی رابطہ مدارس اسلامیہ نے انجام دئےے۔اجلاس کا آغاز جناب قاری عبدالرﺅف کی تلاوت قرآن کرےم سے ہوا، محمد ذیشان و محمد ذکوان سلمہ نے ترانہ ¿ دارالعلوم پےش کےا، اجلاس میں شامل سے مہمانوں سے خیر مقد م کرتے ہوئے مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہاکہ ان مدارس اسلامیہ کی کوکھ سے قابل قدر اورلائق فخر فرزندوں اور سپوتوں نے جنم لیا اور ایسے نفوس قدسیہ تیار ہوئے جنھوں نے بے سروسامانی اور حالات کی تمام تر نامساعدت اور سنگینی کے باوجود ایسی زریں خدمات انجام دیں جو تاریخ کا روشن باب ہےں۔ یہ حضرات علوم اسلامیہ میں رسوخ ومہارت، مسلک حق کے بارے میں تصلب اور وسعت نظر کے ساتھ مومنانہ فراست، الہامی بصیرت، خلوص وللہیت، تواضع و فروتنی ،اتباع سنت اورملک و ملت کی بے لوث خدمت کے جذبے سے سرشار تھے۔انہوں نے رابطہ مدارس کے اغراض ومقاصد پر روشنی، اور نظام تعلیم وتربیت ، باہمی ربط واتحاد کے فروغ، مدارس کے داخلی نظام، اصلاح معاشرہ، مدارس اسلامیہ میں عصری تعلیم کے موضوعات پر مشتمل اہم ہدایات سے مہمانوں کو روشناس کرایااور کہاکہ مدارس اسلامیہ کے داخلی نظام کے استحکام کے لیے سب سے اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ موجودہ عالمی یا ملکی حالات کے نتیجے میں کسی قسم کی منفی سوچ یا مایوسی کاشکار ہونے سے پرہیز کیا جائے اور مسلمانوں کو بھی مثبت انداز فکرکی تلقین کی جائے، برادرانِ وطن کے ساتھ رواداری اور پُرامن بقائے باہم کے اصول پر عمل کیا جائے، مدرسے کی مصلحت کو ملحوظ رکھتے ہوئے غیر مسلم بھائیوں کومناسب مواقع پر مدعوکرکے مدارس سے براہِ راست واقفیت کا موقع فراہم کیا جائے،مسلمانوں کو دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور اسلامی اخلاق کا معاملہ کرنے کی تلقین کی جائے۔ ساتھ ہی ساتھ تحفظ کے نقطہ ¿ نظر سے واردین وصادرین پر نظر رکھی جائے، کسی مشتبہ شخص کو مدرسہ میں آمدورفت اور قیام کی اجازت نہ دی جائے۔اسی کے ساتھ مساجد اور مدارسِ اسلامیہ کے کاغذات کو درست رکھا جائے، اگر کاغذات میں کوئی کمی اور نقص ہے تو پہلی فرصت میں انھیں درست کرایا جائے،اگر صوبائی حکومتوں کی طرف سے مدارس کے سلسلہ میں سروے یاتفتیش کی کارروائی کا حکم ہو توارباب مدارس کسی خوف یا ذہنی انتشار کا شکار نہ ہوں، نہ کسی جذباتیت کا مظاہرہ کریں، نہ میڈیا کے لوگوں سے کوئی منفی بات کریں،البتہ جو سروے ٹیم معلومات حاصل کرنے آئے تو پہلے اس کے بارے میں یہ تحقیق کرلیں کہ کہیں یہ کوئی فرضی ٹیم تو نہیں،اگر واقعی حکومت کے افراد اور کارندے آئیں تبھی ان کو معلومات دیں، بغیر مطالبے کے کوئی دستاویز سپرد نہ کریں، معلومات صحیح اور درست دیں، مدارس کی انتظامیہ کے افراد،حضرات اساتذہ اور طلبہ سبھی کا اندراج آدھار کارڈیا ووٹرآئی ڈی کے مطابق کریں اوربغیر آدھار کارڈ کے کسی طالب علم کا داخلہ نہ کریں۔ مالیات کا نظام حکومت کے اصول وضوابط کے مطابق چست درست رکھیں، کسی آڈیٹر (C.A)کے ذریعہ حسابات کی سالانہ جانچ کراکر اس کی رپورٹ محفوظ رکھیں اوراس سلسلے میں کوئی خامی باقی نہ رہنے دیں۔ مدرسے کی زمین، جائداد کے ملکیتی کاغذات کو درست رکھیں، مدرسہ کو چلانے والی سوسائٹی یا ٹرسٹ اور مدرسہ کی جائداد کا رجسٹریشن قانونی تقاضوں کے مطابق کرالیں۔مدرسہ میں طلبہ کے لیے،صحت مند ماحول میں صاف ستھری رہائش اور کھانے کا بندوبست رکھیں، غسل خانوں اور استنجاخانوں کو خاص طور پر صاف رکھیں۔ ان تمام امور کے ساتھ ضروری ہے کہ پہلے سے زیادہ رجوع الی اللہ اور دعاﺅں کا بھی اہتمام کیا جائے۔ ناظم عمومی مولانا شوکت علی قاسمی بستوی نے سکریٹری رپورٹ پیش کی۔ دارالعلوم دیوبند کے صدر المدرسین مولانا سید ارشد مدنی نے اپنے کلیدی خطاب میں فرمایا کہ رابطہ ¿ مدارس اسلامیہ کا یہ اجلاس درحقیقت دارالعلوم دیوبند اور اس کے نہج پر چلنے والے مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران علماءکرام کا نمائندہ اجلاس ہے۔ مجلس عمومی کے اجلاس میں نظام تعلیم وتربیت ، رابطہ مدارس کی افادیت اور صوبائی شاخوں کی فعالیت، دینی مکاتب کے قیام اور مدارس میںعصری علوم کے انتظام سے متعلق تجاویزناظم اجلاس نے پیش کیں،دیگر تجاویز مولانا محمد راشد اعظمی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند اور مولانا محمد سلمان بجنوری نے پیش کیں۔اجلاس میں انھیں اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔قبل ازاں نماز مغرب مہمان خانہ میں مجلس عاملہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا،جس میں مولانا سید ارشد مدنی،مولانا قمرالدین ، مولانا نعمت اللہ اعظمی ،مولانا بدرالدین اجمل قاسمی ، مولانا رحمت اللہ میرقاسمی ، مولانا مفتی محمود حسن کھیروی ، مولانا انوارالرحمن بجنوری ، مولانا محمد عاقل ،مولانا عبدالخالق مدراسی،مولانامجیب اللہ گونڈوی ،مولانا مفتی محمد یوسف ،مولانا محمد نسیم ،مولانا شوکت علی قاسمی بستوی ،مولانا حسین ہریدواری،مولانا محمد شاہد صاحب مظاہری، مولانا عبدالہادی ،مولانا اشہدرشیدی، مولانا قاری شوکت علی ویٹ،،مولانا صدیق اللہ مغربی بنگال، مولانا مفتی اشفاق احمد ،مولانا نذیر احمدکشمیر،مفتی عبدالسلام ، مولانا ارشد پوکرن، مولانا احمد دیولوی ، مولانا مفتی عبدالرحیم ، مولانا عبدالقوی حیدرآباد،مولانا ریاست علی،مولانا عبدالقادر آسام،،مولانا عقیل الرحمن آسام، مولانا زین العابدین بنگلور،مولانا شمس الدین بنگلور، مولانا علی حسن یمنانگر، مولانا محمد فاروق اڈیشہ، مولانا مفتی سراج احمد منی پور، مولانا داﺅد ظفر دہلی، مولانا محمد ابراہیم کیرالا، مولانامحمد ممتاز ، مولانا محمد احمد خاں ،مولانا ضیاءاللہ ،مولانا مرغوب الرحمن پٹنہ،مولانا عبدالقدیم ،مولانا محمد اسحاق ،مولانا شوکت علی ،مولانا محمد خالد ،مولانا خورشید میرٹھ، مولانا مفتی اقبال احمد،حافظ عبدالقدوس ہادی،مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی، مفتی محمد خلیل قاسمی مالیر کوٹلہ، مولانا محمد رانچی، مولانا مفتی محمد اقبال مولانا عنایت اللہ صاحب پونچھ وغیرہ کے اسماءشامل ہیں۔