دارالعلوم دیوبند آزاد اور آئینی تعلیمی ادارہ ہے، مدارس کے سروے کی رپورٹ پر مفتی ابوالقاسم نعمانی کا ردِ عمل۔
دیوبند:سمیر چودھری۔
اترپردیش میں غیر سرکاری مدارس کا سروے مکمل ہونے کے بعد میڈیا میں عظیم دینی دانش گاہ دارالعلوم دیوبند کے حوالہ سے یہ خبر آرہی ہے کہ دارالعلوم دیوبند ایک غیر منظور شدہ تعلیمی ادارہ ہے۔
اس سلسلہ میں "دیوبند ٹائمز" سے گفتگو کے دوران دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ یہ صحیح ہے ہمارا مدرسہ کسی بورڈسے ملحق نہیں ہے لیکن یہ ایک آزاد قانونی تعلیمی ادارہ ہے ،جو دستور کی دفعہ 25 کے تحت مذہبی تعلیم دیتاہے، انہوں نے کہاکہ دارالعلوم دیوبند اگرچہ کسی بورڈ سے ملحق نہیں ہے لیکن وہ سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ تعلیمی ادارہ ہے جو کسی بھی طرح کی سرکاری امداد نہیں لیتاہے۔ مفتی ابوالقاسم نعمانی نے بتایا کہ دارالعلوم دیوبند کی شوریٰ سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہے اور اسی کے تحت دارالعلوم دیوبند چلتاہے، جو دستور ہند کے مطابق دی گئی مذہب آزادی کے تحت دینی تعلیم دیتاہے، انہوں کہاکہ سوسائٹی ایکٹ تعلیمی ادارے چلانے کا اختیار دیتاہے اور جو ادارے اس ایکٹ کے تحت ہیں وہ کسی بورڈ سے ملحق نہ ہونے کے سبب غیر منظور شدہ کہے جاسکتے ہیں لیکن غیر قانونی نہیں ہیں۔ انہوں واضح الفاظ میں کہاکہ دارالعلوم دیوبند گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے عوامی چندہ پر چل رہاہے اور اس نے کبھی بھی کسی بھی سرکار سے کسی طرح کی کوئی امداد نہیں لی ہے، دارالعلوم دیوبند دستور کے ہند کے مطابق قائم ہے اور دستور میں دی گئی مذہبی آزاد ی کے تحت تعلیمی سرگرمیاں انجام دیتاہے، دارالعلوم دیوبند ایک آزاد قانونی تعلیمی ادارہ ہے۔
ادھر اس سلسلہ میں سہارنپور کے ضلع مجسٹریٹ اکھلیش سنگھ نے بھی وضاحت کی ہے کہ غیر تسلیم شدہ مدارس غیر قانونی نہیں ہیں بلکہ حکومت کی غیر امداد یافتہ ہیں، جوکسی بورڈ یا محکمہ کے تحت نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ یوپی میں مدارس کا سروے مکمل ہوگیاہے اور رپورٹ میں دعویٰ کیاگیاہے کہ صوبہ میں سات ہزار پانچسو مدارس جبکہ ضلع سہارنپور میں دارالعلوم دیوبند اور مظاہر علوم سہارنپور سمیت 306 مدارس غیر منظور شدہ بتائے گئے ہیں،وہیں سرکار کی طرف سے بھی یہ صاف کیا گیا ہے کہ سروے کامقصد جانچ نہیں ہے بلکہ ڈاٹا جمع کرناہے۔