بنگلورو میں سنگھ پریوار کے ہاتھوں دو مسلم نوجوانوں کی وحشیانہ پٹائی، لاٹھی-ڈنڈوں اور تلواروں سےحملہ، مردہ سمجھ کر حملہ آور فرار ، متاثرین کا علاج جاری۔
بنگلورو: (مدثر احمد) گھر گھر جاکر بیڈ شیٹ جانے والے ہم لوگوں نے سنگھ پریوارکے ایک گروہ نے روک کر ہمیں بتایا کہ یہ علاقہ ہندوئوں کا ہے یہاں بیاری مسلمان تجارت نہیں کرسکتے،یہاں کیوں آئے ہو؟یہ سوالات کرتے ہوئے ہم پر ڈنڈوں،تختیوں اور تلواروں سےحملہ کردیااور ہمیں کیچڑ میں پھینک کر فرار ہوگئے، اتناہی نہیں بلکہ ہماری کارمیں ہمیں رکھ آگ لگانے کا منصوبہ بھی سنگھ پریوارکے لوگوں نے بنایا،مگر اس سےپہلے ہی سنگھ پریوارکے ہمیں مردہ سمجھ کر کیچڑمیں پھینک گئے۔یہ بیان اُن رمیز اور رفیق نامی دو نوجوانوں کا ہے جو سنگھ پریوارکے غنڈوں کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچ گئے تھے۔
انہوں نے اسپتال میں نامہ نگاروں کو اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے کہاکہ پچھلےدس بارہ سالوں سے ہم الگ الگ گائوں جاکر بیڈ شیٹ فروخت کرنے کا کام کررہے ہیں اور یہی ہماری روزی روٹی ہے،کل کڑبا تعلقہ کے کانیور دیہات کے بیدراجے علاقے میں یہ واقعہ پیش آیاہے ۔جب ہم تجارت کرنے کے بعد واپس لوٹ رہے تھے اس دوران کار پک اپ اور موٹر بائکوں پر سوار سنگھ پریوار کے کچھ کارکنان ہمیں روکتے ہوئے گالیاں دینے لگے،اسی دوران ڈنڈے،لوہے کی سلاخیں اور تلوار سے ہم پر حملہ کرنے لگے،قریب دوگھنٹوں تک جب وہ ہمیں مار تھک گئے ہمیں کیچڑ میں پھینک دیااور ہمیں مردہ سمجھ کر وہاں سے نکل گئے۔اس واقعہ میں ہم پر نہ صرف جان لیواحملہ ہواہے بلکہ دولاکھ روپئے کے قریب نقصان بھی کیاگیاہے۔واقعہ کی اطلاع پاکر جب پولیس موقع پر پہنچی تو سنگھ پریوارکے کارکنوں نے پولیس پر دبائوڈالاکہ اس معاملے کو حادثہ بتاکر معاملہ درج کیاجائے اور حادثے میں زخمی ہونے کی بات رپورٹ لکھی جائے۔اس پورے معاملے کے تعلق سے سائوتھ کینراکے ایس پی رشی کیش بھاگون نے کہاکہ دونوں نوجوانوں کو اسپتال میں داخل کیاگیاہے اور تمام زاویوں سے تحقیقات کی جارہی ہے۔قانون کے مطابق کارروائی کی جائیگی۔