عمران مسعود کے بی ایس پی میں شامل ہونے سے ضلع میں سیاسی ہلچل تیز، بلدیاتی اور لوک سبھا الیکشن پر مسعود کی نظر۔
دیوبند:سمیر چودھری۔
گزشتہ روز سہارنپور کے قدآور لیڈر اور سابق اسمبلی رکن قاضی عمران مسعود بہوجن سماج پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں ، عمران مسعود کے بہوجن سماج پارٹی میں شامل ہونے کے بعد اب ضلع سہارنپور کے سیاسی حالات بھی تبدیل ہوجائیں گے جس کا اثر دو ماہ بعد ہی ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں بھی دکھائی پڑسکتا ہے۔ ابھی تک بلدیاتی انتخابات میں بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے درمیان مقابلہ ہونے کی بحث چل رہی تھی لیکن اب حالات بدل گئے ہیں ۔ بہوجن سماج پارٹی اب بی جے پی کو کڑی ٹکر دے سکتی ہے، جب کہ سماج وادی پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے اعدادو شمار پر بھی خطرہ منڈلانے لگا ہے، حالانکہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ تو وقت ہی بتلائے گا۔ 9مرتبہ ممبر پارلیمنٹ رہے سابق مرکزی وزیر مرحوم قاضی رشید کے سیاسی جانشین کہے جانے والے عمران مسعود سہارنپور کی سیاست کے ایک قد آور لیڈر مانے جاتے ہیں۔ مسلم ووٹروں پر ان کا اچھا خاصا اثر ہے، ضلع سہارنپور میں جو بھی سیاسی حالات پیدا ہوتے ہیں اس کے سینٹر میں عمران مسعود کو رکھا جاتا ہے، ایسا انہوں نے 2014اور 2019کے پارلیمانی انتخابات میں کرکے دکھایا ہے ۔ 2014کے پارلیمانی انتخاب میں عمران مسعود نے 4لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کئے ، جب کہ 2019میں 2لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کرکے سبھی کو حیرت زدہ کردیا تھا۔ اسمبلی انتخابات سے قبل عمران مسعود کانگریس چھوڑ کر سماج وادی پارٹی میں شامل ہوگئے تھے ، اس میں ان کا اثر کتنا رہا یہ تو صاف نہیں لیکن سماج وادی پارٹی کی سیٹیں جہاں پہلے ایک تھی وہ 2تک پہنچی۔ وہیں کانگریس کے پاس 2017میں 2اسمبلی رکن تھے لیکن کانگریس چھوڑنے کے بعد ضلع میں انہیں کوئی بھی سیٹ نہیں ملی ، اتنا ہی نہیں وہ اپنی ضمانتیں بھی نہیں بچا پائے۔ عمران مسعود کے سماج وادی پارٹی میں شامل ہونے کے بعد سب سے پہلا اثر بلدیاتی انتخابات میں دیکھنے کو مل سکتا ہے ، موجودہ وقت میں میئر کے عہدے پر بی جے پی کے سنجیو والیہ ہیں ۔ انہوں نے گزشتہ انتخاب میں بہوجن سماج پارٹی کے امیدوار اور موجودہ ممبر پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن کو بہت کم فرق سے شکست دی تھی ، اس وقت عمران کی حمایت سے کانگریس کے ٹکٹ پر ششی والیہ نے انتخاب لڑا تھا اور وہ 60ہزار سے زائد ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے تھے ، اب عمران مسعود بھی بہوجن سماج پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں، سہارنپور میں دلت مسلم ووٹوں کا اتحاد کامیابی کی صورت حال پیدا کرسکتا ہے۔ اس وجہ سے بی جے پی کو بلدیاتی انتخابات میں سخت ٹکر مل سکتی ہے، عمران کے پارٹی چھوڑنے کے بعد سماج وادی پارٹی کے اعداد وشمار بھی خراب ہوسکتے ہیں کیوں کہ مسلم ووٹوں کا رجحان اگر عمران مسعود کی طرف چلا گیا تو سماج وادی پارٹی کو نقصان ہوسکتا ہے۔عمران مسعود کے بہوجن سماج پارٹی میں شامل ہونے پربہوجن سماج پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن نے کہا کہ سب مل کر کام کریں گے ، پارٹی میں آنا جانا تو لگا ہی رہتا ہے ۔ بہوجن سماج پارٹی کے کوآرڈی نیٹر نریش گوتم نے کہا کہ عمران مسعود کے بہوجن سماج پارٹی میں شامل ہونے سے پارٹی کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے وہ زمینی سطح کے لیڈر ہیں ، ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ جلد ہی سماج وادی پارٹی کے کئی بڑے چہرے بھی بہوجن سماج پارٹی میں شامل ہوںگے اور اس کے لئے جلد ہی ایک پروگرام کا انعقاد کیا جائے گا۔