ہند نژاد رشی سوناک برطانوی وزیراعظم بننے کی دوڑ میں شامل، مطلوبہ حمایت بھی حاصل کرلی، بونس نے پارٹی سربراہ کے طور پر واپسی کا اعلان کیا۔
لندن: برطانیہ کے سابق وزیر خزانہ رشی سوناک نے کنزرویٹیو پارٹی کے رہنما اور وزارت عظمیٰ کا امیدوار بننے کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انڈین نژاد رشی سوناک جمعے کو دیر گئے پارٹی لیڈر کا انتخاب لڑنے کے لیے عائد شرائط کی کم سے کم حد تک پہنچ گئے۔دوسری جانب سابق وزیراعظم بورس جانسن نے ایک بار پھر پارٹی کے سربراہ کے طور پر واپسی کا اعلان کیا ہے۔ٹوری پارٹی کے ایم پی ٹوبیاز اِل ووڈ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’اُن کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ وہ پارٹی کے 100ویں رُکن ہیں جو رشی سوناک کی حمایت کرنے کے لیے آگے بڑھے ہیں۔‘وزیراعظم لِز ٹرس کے ڈرامائی استعفیٰ کے بعد برطانیہ کی حکمران جماعت کی قیادت کے لیے کابینہ کی رکن پینی مورڈانٹ پہلے ہی اپنی امیدواری کا باضابطہ اعلان کر چکی ہیں۔ اگر پارٹی رہنما بننے کی دوڑ میں شامل دیگر امیدوار 100 ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو رشی سوناک کنزرویٹیو جماعت کے سربراہ اور وزیراعظم منتخب ہو جائیں گے۔اطلاعات کے مطابق رشی سونک نے وزیراعظم کا امیدوار بننے کے لیے مطلوبہ اراکین کی حمایت حاصل کرلی۔103 کنزرویٹیو اراکین پارلیمنٹ نے رشی سونک کا ساتھ دینے کا اعلان کردیا جب کہ سابق وزیراعظم بورس جانسن اب بھی دوڑ میں شامل رہنے پر بضد ہیں اور وہ بیرون ملک تعطیلات ادھوری چھوڑ کر برطانیہ واپس آگئے ہیں۔اس کے علاوہ پینی مورڈنٹ کا ستارہ اس بار بھی روشن نہ ہوسکا اور وہ چند اراکین کی حمایت ہی حاصل کر سکیں۔کنزرویٹیو پارٹی کے نئے لیڈر کے انتخاب کا عمل 28 اکتوبر کو مکمل ہوگا۔