Latest News

کیا آپ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اس شرم ناک فیصلے سے واقف ہیں؟ : شکیل رشید

کیا آپ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اس شرم ناک فیصلے سے واقف ہیں؟ : شکیل رشید
کیا آپ جانتے ہیں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنا خواتین کا ونگ تحلیل کردیا ہے؟ نہیں جانتے ہیں تو جان لیں کہ یہ شرم ناک فیصلہ بورڈ کے ذمے داران نے لیا ہے۔
 
پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پابندی لگنے سے دو روز قبل یہ فیصلہ لیا گیاتھا۔ اس ونگ کی قیادت اسماء زہرا کر رہی تھیں۔ ان کا ایک درد بھرا آڈیو آیا ہے جسے میں شئیر کروں گا۔ ان کی گفتگو سے احساس ہوتا ہے کہ ان کے اور ان کے ساتھ کام کرنے والی دیگر خواتین کے لیے یہ فیصلہ کس قدر تکلیف دہ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ فیصلہ ہم سب کے لیے تکلیف دہ ہے۔ یہ خواتین ونگ ہی تھی جو خواتین کے مسائل اٹھایا کرتی تھی۔ اصلاحی سرگرمیوں میں جٹی رہتی تھی۔ طلاق ثلاثہ پر اس کی تحریک بے مثال تھی۔ لیکن وقت قیام سجدے میں گرنے والے یہ جو ناداں ہیں انہیں خواتین کا سرگرم ونگ کھٹک رہا تھا کیونکہ ان کے سجدے جہاں ہو رہے ہیں وہ یہ سرگرمی برداشت نہیں کر پارہے تھے۔ 
بھلے شریعت مخالف اقدامات کے خلاف تحریکیں ختم ہو جائیں زمینی خدا نہ روٹھنے پائیں، اس لیے خواتین ونگ کو اٹھا کر پھینک دیا گیا۔ کیا ہوگا اس کا ردعمل اس پر غور تک نہیں کیا گیا۔کہیں یہ خواتین جو کل تک شریعت مخالفین کے خلاف صف آرا تھیں اپنا ایک الگ بورڈ نہ بنا لیں، مسلم خواتین پرسنل لا بورڈ۔ اگر ایسا ہوا تو اچھا ہی ہوگا۔ سچ یہی ہے کہ یہ جو جبہ و دستار کے حاملین ہیں اور جو عبا و قبا کو اپناحق سمجھتے ہیں مسلم خواتین کے شرعی حقوق پر ڈاکے ڈالنے کے سب سے بڑے مجرم ہیں۔ اس فیصلہ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ونگ مولانا ولی رحمانی مرحوم کابنایا ہوا تھا۔ یہ تنگ نظری علماء کی رگ رگ میں خون کی طرح سرایت کر گئی ہے۔ الله ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔ یہ جو فیصلہ ہوا ہے اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ ایسے فیصلوں کی بنیاد پر ہی یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ اسلام میں عورتوں کے حقوق انہیں نہیں دیے جاتے، یا اسلام میں عورتوں کے لیے حقوق ہیں ہی نہیں۔ آج جب مسلمان خواتین میں اصلاحی سرگرمیوں کی اشد ضرورت ہے اور حجاب سے لےکر ارتداد تک کے مسائل منھ پھاڑے ہو ئے سامنے کھڑے ہیں اور ضرورت کے تحت ایک طبقہ خواتین کے مساجد میں جانے کی آواز اٹھانے ہوۓ ہے، یہ فیصلہ ناعاقبت اندیشانہ، شرم ناک اور افسوس ناک ہے۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر