غازی آباد:  مسجد کے سامنے والی سڑک پر نماز پڑھنے کے معاملے میں پولیس نے 25 سے 30 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ اس سلسلے میں ہندو تنظیموں نے نماز کی ادائیگی پر اعتراض کرتے ہوئے پولیس سے اس کی شکایت کی ہے۔ وہیں ہندو تنظیموں نے پہلے نماز کا ویڈیو بنا کر اسے وائرل کیا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد غازی آباد پولیس نے اس معاملے میں 25 سے 30 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ایف آئی آر میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا ذکر کیا گیا ہے اور دفعہ 188 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ مذکورہ معاملہ غازی آباد کے کھوڈا علاقے کے دیپک وہار کا ہے جہاں کئی لوگوں کو مسجد کے سامنے والی سڑک پر نماز ادا کررہے تھے۔ سڑک پر نماز کی ادائیگی کے معاملے میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور دفعہ 188 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ فی الحال نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ نماز اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے پہلا رکن ہے، ہر مسلم بالغ عاقل پر فرض ہے۔ ساتھ ہی شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ مسجد کو پہلے مدرسہ کے طور پر شروع کیا گیا تھا لیکن بعد میں اسے مسجد بنا دیا گیا۔ پلاٹ کے پیچھے جھگڑا چل رہا ہے۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ مسجد میں کافی جگہ ہے لیکن ہندو اکثریتی علاقوں میں نماز ادا کی جاتی ہے۔