بنگلورو: چندی گڑھ کے واقعہ کے مہینوں بعد کرناٹک میں ایک اور چونکا دینے والا واقعہ منظر عام پر آیا ہے جہاں ایک خانگی کالج کے طالب علم کو لڑکیوں کی نیم عریاں ویڈیوز ریکارڈ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق طالب علم پر الزام ہے کہ اس نے ہاسٹل کی طالبات کی ویڈیوز ریکارڈ کرنے کے لیے واش روم میں خفیہ کیمرہ نصب کیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ طالب علم نے 1200 سے زائد نیم عریاں ویڈیوز اور لڑکیوں کی تصاویر ریکارڈ کی ہیں۔تاخیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ جنوبی بنگلورکے ہوساکیریہلی کے ایک خانگی کالج میں پیش آیا۔شبھم ایم آزاد نامی ملزم کو ایک ریسٹ روم میں کیمرہ ٹھیک کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ اس واقعہ کی اطلاع 19 نومبر کو ہوئی تھی اور گری نگر پولس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ایف آئی آر درج ہونے کے بعد پولیس نے ملزم کو طلب کیا اس کا لیپ ٹاپ چیک کیا جس میں سے طالبات کی 1200 سے زائد ریکارڈنگز اور تصاویر برآمد ہوئیں۔ پولیس اس بات کی تحقیقات کررہی ہے کہ آیا ملزم نے انٹرنیٹ پر کوئی نجی ویڈیو یا تصاویر اپ لوڈ تو نہیں کی ہیں۔تاہم یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ملزم طالبات کی فلم بناتے ہوئے پکڑا گیا ہو۔ اس سے قبل بھی اسے 13 نومبر کو انتظامیہ نے پکڑا تھا لیکن اس نے اگلی مرتبہ اس طرح کی گھناونی حرکت نہ کرنے کا تیقن دیا تھا۔