نئی دہلی:  (پی ٹی آئی) اترپردیش پولیس نے غازی آباد کے ڈاسنا دیوی مندر کے مہنت یتی نرسمہانند سرسوتی کو نوٹس جاری کیا ہے جس میں انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ’دھرم سنسد‘ اور اس کی تیاری کے لیے کوئی میٹنگ منعقد نہ کریں۔
ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ سے کسی طرح کی  اجازت نہیں لی گئی ہے۔ اپنے اشتعال انگیز بیانات سے اکثر تنازع پیدا کرنے والے نرسمہانند نے 17 دسمبر سے شروع ہونے والے 3 روزہ ’دھرم سنسد‘ کو سابق بی جے پی رکن پارلیمنٹ بیکنٹھ لال شرما ’پریم‘ کے یوم پیدائش کے پروگرام کے طور پر بیان کیا ہے۔ سہ روزہ پروگرام کے پلان کی تیاری کے لیے 6 دسمبر کو تیاری میٹنگ طلب کئی گئی ہے۔ 
ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے مسوری پولیس نے یتی نرسمہانند کو نوٹس جاری کیا ہے۔ مشرقی دہلی سے بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ بیکنٹھ لال شرما ’پریم‘ کے یوم پیدائش کے موقع پر 17 دسمبر سے مجوزہ سہ روزہ ’دھرم سنسد‘ پروگرام کا منصوبہ تیار کرنے کے لیے 6 دسمبر کو ایک تیاری میٹنگ بلائی گئی ہے۔ 
ڈاسنا مندر کے مہنت نے ایک پریس ریلیز میں کہا تھا کہ ’دھرم سنسد‘ مندر کے احاطہ کے اندر منعقد ہوگی، اس لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ پہلی بار منعقد نہیں کیا جا رہا ہے۔ ہم اسے کسی بھی قیمت پر منعقد کریں گے، اگر پولیس اور انتظامیہ نے رکاوٹیں کھڑی کیں تو سنت اپنا احتجاج درج کرائیں گے۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ (دیہات) ایراج راجہ نے کہا کہ ’اجازت کے بغیر پولیس سہ روزہ ’دھرم سنسد‘ کی اجازت نہیں دے گی جس میں سیکڑوں سنت یہاں پہنچیں گے اور انہیں سیکورٹی فراہم کرنا ایک مشکل کام ہوگا۔‘ اس کے علاوہ بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر ضلع میں دفعہ 144 بھی نافذ ہے۔ ایس پی نے کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں گی۔