دربھنگہ: (محمد رفیع ساگر) جالے بلاک کے دیورابندھولی میں اتوار کو ملک کے مشہور مبلغ و داعی فیضلتہ الشیخ مولانا ثناءاللہ مدنی ودیگر مہمانوں کے ہاتھوں مدرسہ مریم للبنات و گرلس ہائی اسکول کا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔اس موقع پر مولانا ثناءاللہ مدنی نے کہا کہ یہ ادارہ پورے متھلانچل میں اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد ہوگا جہاں خالص اسلامی ماحول میں دینی وعصری تعلیم دی جائے گی۔اس ادارے کے قیام کا اصل مقصد یہ ہیکہ مسلم معاشرے کی لڑکیاں جو دینی علوم حاصل کرنا چاہتی ہیں یا پھر عصری علوم حاصل کرنا چاہتی ہیں وہ یہاں ایک ہی چھت کے نیچے اپنی علمی تشنگی کو بجھا سکتی ہیں۔اس لئے اس ادارے کا نام ہم نے مدرسہ مریم للبنات و گرلس ہائی اسکول مریم للبنات رکھا ہے تاکہ مدرسہ و اسکول دونوں کی تعلیم دی جائے اور جو بچیاں اسکول کے نصاب کو پڑھنا چاہتی ہیں وہ اسکول کے حساب سے میٹرک انٹر تک کی تعلیم حاصل کرے گی اور جو بچیاں مدرسہ کے نصاب کو پڑھنا چاہتی ہیں وہ عالمہ فاضلہ تک کی تعلیم حاصل کرے گی ۔وہیں بچیوں کو امور خانہ داری کے سلسلے میں ہنر مند بھی بنایا جائے گا تاکہ معاشی طور پر بچیاں خودکفیل بن سکیں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ادارے کی علاقے میں بہت ضرورت تھی اور کئی سالوں سے میری ذھن میں اس طرح کا ادارہ کھولنے کی خواہش تھی جس کا اھل خیر حضرات کے تعاون سے آج سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے اور انشاء اللہ آئندہ سال سے تعلیم کا باضابطہ آغاز ہو جائے گا ۔موقع پر مولانا خورشید عالم مدنی نے کہا کہ آج ہمارے معاشرے کی لڑکیاں ارتداد کی شکار ہو رہی ہیں، کالج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادی کر لیتی ہیں یا پھر بھاگ جاتی ہیں جس کو ہم لوگ روزانہ اخباروں میں پڑھتے ہیں لیکن اس کے حل کیلئے ہم مسلمانوں نے کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کیا ہے بلکہ ہم لوگ چوک چوراہوں پر موضوع بحث بناتے ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہیکہ ہم لوگ ایک ایسا ادارہ قائم کریں جہاں اسلامی ماحول میں بچیوں کو اعلی تعلیم سے آراستہ کریں تاکہ بچیاں دوسری جگہ نہیں جا سکے ورنہ اس فتنہ ارتداد کے اصل مجرم ہم لوگ خود ہوں گے۔اس سنگ بنیاد کے موقع پر مولانا انعام الحق مدنی نے کہا کہ اس طرح کے ادارہ کی علاقے میں بہت ضرورت تھی برسوں قبل ایسا ادارہ علاقہ میں ہونا چاہئے تھا ۔بہار میں اس طرح کا ادارہ بہت کم ہے لیکن یوپی میں بہت زیادہ ہے اور ہمارے علاقہ کی بچیاں یوپی میں تعلیم حاصل کرتی ہیں لیکن اب اس طرح کا ادارہ کھولنے سے بچیاں ضرور دوسری جگہ نہیں جائیں گی جس کے لئیے ہم ثناءاللہ مدنی کو مبارکباد دیتے ہیں۔حافظ نوشاد عالم سلفی نے کہا کہ ہم لوگوں کے لئے بڑی خوشی کی بات ہیکہ ہمارے گاؤں میں اپنی نوعیت کا منفرد ادارہ کھل رہا ہے جہاں ایک ہی کیمپس میں دینی وعصری تعلیم خالص کتاب و سنت کی روشنی میں دی جائے گی۔سنگ بنیاد کے موقع پر مشہور خطیب و شاعر جمیل اختر شفیق تیمی ،مولانا عنایت اللہ جوہر اصلاحی،مولانا عرفان سلفی ،شکیل احمد سلفی،ڈاکٹر مشکور احمد عثمانی،پروفیسر خادم حسین فیضی۔محمد ذوالقرنین،سمیع اللہ اشرف،سیف الدین گوہر،ریاض حسین سلفی،مولانا معراج سلفی،مولانا فضل اللہ حسن سلفی، مولانا ابرار فیضی سمیت کئی سرکردہ شخصیات موجود تھے۔