نئی دہلی:  سال 2000 میں لال قلعہ پر حملے کے مجرم محمد عارف عرف اشفاق، لشکر طیبہ کے دہشت گرد کو پھانسی دی جائے گی۔ درحقیقت سپریم کورٹ نے دہشت گرد محمد عارف عرف اشفاق کی سزائے موت کو برقرار رکھا اور اس کی طرف سے دائر نظرثانی کی درخواست کو خارج کر دیا۔دراصل لال قلعہ حملہ کیس میں دہشت گرد اشفاق پہلے ہی سپریم کورٹ سے مجرم ثابت ہو چکا ہے۔ طویل سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے 10 اگست 2011 کو عارف کو سزائے موت سنائی تھی، جس کے بعد اشفاق نے نظرثانی درخواست پر دوبارہ کھلی عدالت میں سماعت کا مطالبہ کیا تھا۔ اشفاق نے 22 دسمبر 2000 کی رات لال قلعہ میں فوجی بیرکوں پر حملہ کیا تھا جس میں سپریم کورٹ نے اسے قصوروار قرار دیا تھا۔ سپریم کورٹ میں 5 رکنی آئینی بنچ نے جولائی 2019 کو پاکستانی شہری عارف عرف اشفاق کی درخواست کو قبول کر لیا تھا۔بتادیں کہ 22 دسمبر 2000 کو لال قلعہ پر حملے میں دو فوجی جوانوں سمیت تین افراد مارے گئے تھے۔ اس معاملے میں 11 مجرموں کو سزا سنائی گئی ہے۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ دہشت گرد نے یہ حملہ کرنے کے لیے پاکستان سے دس لاکھ روپے حاصل کیے تھے۔