حیدرآباد: کرناٹک کے معروف مسلم رہنما،راجیہ سبھا کے سابق رکن، بزرگ سوشلسٹ سیاست دان اور ممتاز ماہر تعلیم عبدالصمد صدیقی نے پیر کو حیدرآباد کے ایک نجی اسپتال میں آخری سانس لی۔ دی کوگنیٹ نے رپورٹ کیا کہ وہ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ صدیقی 1988 سے 1994 ایم پی (راجیہ سبھا) رہے۔

عبدالصمد صدیقی جنہوں نے اپنا سیاسی سفر جنتا پارٹی سے شروع کیا جو بعد میں جنتا دل میں ضم ہو گئی، جنتا دل کے قومی جنرل سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔

جنتا دل میں پھوٹ پڑنے کے بعد، انہوں نے کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ رام کرشن ہیگڑے اور جنتا دل کے کئی رہنماؤں کے ساتھ مل کر لوک شکتی کی بنیاد رکھی، جو کبھی کرناٹک کی ریاستی پارٹی تھی۔ صمد صدیقی نے اپنے آغاز سے ہی لوک شکتی کے قومی نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

وہ فروری 2013 میں بنگلور میں ایک ریلی کے دوران بہوجن سماج پارٹی میں شامل ہوئے۔ صدیقی شمالی کرناٹک خطے کے ممتاز مسلم رہنماؤں میں سے ایک تھے، جو غریبوں کے لیے تعلیمی اداروں کی تعمیر میں اپنے کردار کے لیے مشہور تھے۔

صدیقی نے ایک ماہر تعلیم اور سیاست دان کی حیثیت سے اپنی زندگی کے آخری 35 سالوں میں رائچور شہر میں نیو ایجوکیشن سوسائٹی، ملت ایجوکیشن سوسائٹی وغیرہ جیسے کئی تعلیمی ادارے قائم کئے۔ رائچور میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے قیام کی حمایت میں تحریک میں بھی وہ سب سے آگے تھے۔