Latest News

چھٹھ پوجا کے دوران مظفر پور میں نہال کی لنچنگ، ہندو لڑکی سے کورٹ میرج کا انتقام، سسر نے مسلم داماد کو بھیڑ کے ہاتھوں قتل کروادیا، فیضان کو بھی مندر کے باہر باندھ کر مارا گیا۔

چھٹھ پوجا کے دوران مظفر پور میں نہال کی لنچنگ،  ہندو لڑکی سے کورٹ میرج کا انتقام، سسر نے مسلم داماد کو بھیڑ کے ہاتھوں قتل کروادیا، فیضان کو بھی مندر کے باہر باندھ کر مارا گیا۔
مظفرپور: مظفر پور میں چھٹھ پوجا کے دوران مسلم نوجوان ایان (نہال) کی لنچنگ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ بتایاجارہا ہے کہ نہال اپنی اہلیہ خوشبو کے بار بار بلانے پر اس سے ملنے وہاں گیا تھا۔ اس دوران اس کے سسر نے چور کا ہنگامہ کرکے بھیڑ کے ہاتھوں اس کی پٹائی کروادی اور ادھ مرے حالت میں وہاں سے اسے لے جاکر راستے میں پہلے اس کی آنکھ پھوڑی، راڈ سے حملہ کیا اور موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اطلاع کے مطابق بہار کے ضلع مظفرپور کے کانتی تھانہ علاقہ کے بھیمل پور گاؤں میں چھٹھ گھاٹ پر اپنی بیوی سے ملنے آئے ایان(نہال) کو ہجوم نے پیٹ پیٹ کر قتل کردیا۔ ایان کا ایک ساتھی شدید زخمی ہوا ہے۔ اسی دوران ایان کے دو دیگر ساتھی فرار ہو گئے۔ ۲۴سالہ ایان مظفرپور کے محلہ برہم پورہ کا رہنے والا تھا۔ 
مقامی لوگوں کے مطابق ایان کی اہلیہ بی بی گنج برہم پورہ محلے میں رہتی ہے۔ وہ چھٹھ پوجا کے لیے اپنے اہلخانہ کے ساتھ اپنے آبائی گاؤں آئی تھی۔ ایان اہلیہ کے بلانے پر اس سے ملنے کے لیے ہی چھٹھ گھاٹ پہنچا تھا۔ اسی دوران لوگوں نے اس سے پوچھ گچھ کی اور اس کی پٹائی کردی۔ جس کی وجہ سے اس کی موت ہو گئی۔ کانتی پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے ایس کے ایم سی ایچ بھیج دیا۔ ساتھ ہی زخمی نوجوان کو بھی علاج کے لیے ایس کے ایم سی ایچ میں داخل کرایا گیا ہے۔ جہاں اس کی حالت تشویشناک ہے۔ایان کی لاش کو لے کر لواحقین نے ضلع کے برہم پورہ تھانہ علاقے کے مہندی حسن چوک کو بلاک کر دیا۔ انہوں نے کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ اتنی بڑی واردات کے بعد بھی پولیس نے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی۔ایان کے اہلخانہ نے پولیس سے جلد کارروائی اور قصورواروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس نے انہیں سمجھایا اور تحقیقات کے بعد سخت کارروائی کا یقین دلایا۔ پولیس کی یقین دہانی کے بعد لواحقین لاش لے کر سڑک سے ہٹ گئے۔ اس دوران ڈیڑھ گھنٹے تک جام لگا رہا۔بتادیں کہ ایان (نہال) اور خوشبو چار سال قبل ۲۰۱۸ میں محبت کے رشتے میںبندھے تھے، محبت کی بات سامنے آنے پر اہل خانہ نے مخالفت کی جس کی وجہ سے دونوں گھر سے فرار ہوگئے تھے۔ محلے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ دونوں کی دوستی کوچنگ کے وقت ہوئی تھی اس کے بعد دونوں نے گھر سے بھاگ کر کورٹ میرج کرلی پھر لڑکی کے والد نے نہال کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی، ماں سمینہ خاتون نے کہاکہ لڑکی والے ہم لوگوں سے ملنے چار سال پہلے آئے تھے، ہم پر دبائو بنایا تھا لڑکی کو ڈھونڈنے میں ہم نے کافی مدد کی اس دوران لڑکی برآمد ہوگئی، حالانکہ آج تک کیس میں سمجھوتہ نہیں ہوا، انہو ںنے بتایاکہ ہم بہت پہلے سے کولکاتہ میں تھے وہیں نہال کے نانا نے بتایاکہ وہ کولکاتہ میں چمڑا فیکٹری میں رہتا تھا دو چار دن بعد کا ہی اس نے لوٹنے کا ٹکٹ بنوا رکھا تھا ان کی بیٹی کو ڈھونڈنے میں ہم نے اپنا پیسہ وقت سب کچھ برباد کردیا لڑکی کو برآمد کرکے اس کے اہل خانہ کو بھی سونپ دیابدلے میں انہوں نے میرے نواسے کو مارڈالا۔ ایان کی تدفین کل کردی گئی ہے۔ علاقے میں حالات اب معمول پر ہے۔ قتل کے بعد برہمپورہ شہر میں مشتعل لوگوں نے احتجاج کیا تھاجس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے وعدہ کیا ہے جو ملزمان ہیں ان کی گرفتاری کی جائے گی، ابھی تک اہم ملزم ہے اس کی گرفتاری ہوئی اور نہ ہی کسی نامزد کی گرفتاری ہوئی ہے۔ علاقے کے لوگوں نے سی پی آئی ایم ایل اور انصاف منچ کے وفد کو واقعے کی تفصیل بتایا کہ چھٹھ پوجا کے دوران نہال اپنی بیوی سے ملنے اس کے کہنے پر آیا تھا۔ یہ ایک منظم قتل اور سازش ہے۔ گائوں والو ںنے کہاکہ لڑکی کے والد شمبھو شاہ نے شور کیا چور آیا مارو اسے، چور کی آواز سن کر لوگ مارنے لگے، جیسے ہی محمد نہال نے کہا ہم چور نہیں شمبھو کی بیٹی خوشی کے شوہر ہیں تو لوگوں نے مارنا چھوڑ دیا، شمبھو شاہ نے ان لوگوں کو بھیڑ سے یہ کہہ کر لے لیا ہم اس کا علاج کرائیں گے، علاج کے نام پر محمد نہال کا پینٹ کھول دیا، دیکھو دیکھو میاں مسلم ہے، مارو مارو، پھر بھی لوگ اسے نہیں مارے ، نہال کے سالے کے ساتھ سسر نے نہال کو ای رکشہ پر رکھ لیا اور چھٹھ گھاٹ سے مدھوبن جھٹکاہی پنچایت حلقے میں لے آیا، اورسڑک کے کنارے رکھ کر باضابطہ طور پر پہلے اس کی آنکھ پھوڑ دی، لوہے کی سلاخوں سے مار مار کر لہولہان کردیا جس سے اس کی جان چلی گئی۔ گائوں والوں کا کہنا ہے کہ وہ لوگ چھٹھ پوجا کے دوران قتل کے منصوبہ بندی کے ساتھ آئے تھے، ان کی منصوبہ بندی کا یہ عالم تھا وہ اپنے ساتھ لاٹھی اور آلہ قتل جیسے ہتھیار وغیرہ لے کر آئے تھے۔ ایسا پہلی بار ہوا کہ پوجا کے ساتھ اس طرح آئے ہوں۔ بتایاجارہا ہے کہ جب نہال مرگیا تو سسر شنبھو شاہ نے ہی پولس کو کال کیا، گائوں والوں نے پولس کے رویے کو مشکوک قرار دیا اور کہاکہ انتظامیہ قاتلوں سے ملی ہوئی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ قتل کے بعد علاقے بجلی کٹوادی گئی۔ ادھر ایان کے دوست فیضان کو مندر کے باہر باندھ کر پٹائی کی گئی، لیکن ایان کی موت کے ہنگامہ کے بعد پولس وہاں آئی اور فیضان کو بھیڑ کے ہاتھوں سے لے گئی، جس کا ابھی علاج چل رہا ہے۔ سی پی آئی ایم ایل کے ریاستی کمیٹی کے ممبر سترودھن سہنی نے اس پورے واقعے کو ایک سازش کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جائے، اعلیٰ سطحی جانچ کےلیے مقامی تھانہ انچارج سنجے کمار سنگھ کو اس کیس سے برطرف کیاجائے۔ اس پورے واقعے کی تفتیش کرنے کےلیے سی پی آئی ایم ایل اور انصاف منچ کی مشترکہ ٹیم نے جائے حادثہ کا دورہ کیا جس میں انصاف منچ مظفر پور کے ضلع صدر فہد زماں اور انصاف منچ بہار کے ریاستی ترجمان اسلم رحمانی اور محمد جاوید وغیرہ شامل تھے۔

Post a Comment

0 Comments

خاص خبر