کانپور: جمعیۃ علماء شہر و مجلس تحفظ ختم نبوت کانپورکے زیر اہتمام کانپور میں منعقد ہونے والی تحفظ ختم نبوت و تحفظ حدیث کانفرنس سے قبل مشرقی اتر پردیش کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ محمودیہ اشرف العلوم میں شہر کانپور و اطراف کے اضلاع کے علمائے کرام، ائمہ مساجد، حفاظ و دانشوران کی ایک اہم تربیتی نشست منعقد ہوئی۔ جس میں بطور مہمان خصوصی تشریف لائے ازہر ہند دار العلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی نے اپنے بیان میں خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمیؒ کی رحلت کے بعد پہلی مرتبہ شہر کانپور اورجامعہ میں حاضری ہو ئیہے۔ اللہ کا شکر، کرم اور احسان ہے کہ جو چراغ مولانا اسامہ قاسمیؒ اور مولانا انوار احمد جامعیؒ نے اشرف آباد میں روشن کیا تھااور جو پودا لگایا تھا، اس کی روشنی بھی قائم ہے اور وہ پودا بھی برگ و بارہورہا ہے۔
تحفظ ختم نبوت کا مسئلہ جمعیۃ علماء ہند کے سابق صدر ہمارے پیش رومولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوریؒ کی روحانی غذا بن چکا تھا اور اس موضوع پر ان کی اتنی دلچسپی تھی کہ پورے ملک کے اندر کہیں بھی اگر کوئی فتنہ سر اٹھاتا تو حضرت قاری صاحبؒ بے چین ہو جاتے اور اس کاقلعہ قمع کرنے کیلئے ہر سطح کی محنت کیلئے خود کو میدان میں نکالتے تھے۔ مولانا نے علمائے کرام کو فتنوں کے تعلق سے اپنے اندر حساسیت کو پیدا کرکے ان کا تعاقب کرنے کیلئے عزم و ہمت اور جماعت کے اعتبار سے خود کو تیار رہنے کیلئے کہا۔ مختلف علاقوں میں مختلف فتنے ہوتے ہیں، لیکن بعض جگہ وہ ہیں جہاں کئی کئی فتنے ایک ساتھ سر اٹھاتے ہیں، بدقسمتی سے آپ کا یہ شہر کانپور بھی انہیں جگہوں میں سے ایک ہے۔ پرویزیت، انکار حدیث کا فتنہ جو کتابوں کا جز بن چکا تھا، اس نے بھی یہاں سر اٹھایا، قادیانیت اور شکیلیت کا فتنہ، ملک کے دیگر حصوں میں کہیں صدیق دیدار،کہیں فیاض بھیا،کہیں ریاض گوہرشاہی سمیت جتنے بھی فتنے ہیں ان سب کا تعلق حقیقت میں حضورؐ کی ختم نبوت سے جڑا ہوا ہے۔ تحفظ حدیث کا معاملہ جو فتنہ انکار حدیث کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے،اس کا تعلق بھی نبی کریمﷺ کی خاتمیت اورنبوت سے ہے۔ رسول اللہﷺ صرف اللہ کے رسول نہیں بلکہ خاتم النبیین ہیں اور یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ جڑی ہوئی ہیں، ایک کودوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔
اگر کوئی شخص رسول اللہﷺ کی حیثیت کو صرف ایک ڈاکیہ اور پیغام رساں کی حیثیت سے باور کرانے کی کوشش کرتا ہے، آپؐ کے ارشادات وفرمان کو تشریح کی حیثیت نہیں دیتا، شریعت کے احکام کوبیان کرنے کی حیثیت نہیں دیتا تو جہاں وہ آپؐ کی رسالت ونبوت کی قدرو قیمت کو گھٹا رہا ہے، اسی طریقے سے آپؐ کی خاتمیت کی اہمیت کو بھی گھٹا رہا ہے۔ یہ حملہ صرف آپؐ کی رسالت پر نہیں بلکہ آپؐ کی ختم نبوت پر بھی ہے۔ اگر ایک حیثیت مجروح ہوتی ہے تو دوسری حیثیت بھی مجروح ہوگی، اس لئے بنیادی مسئلہ ہمارا تحفظ ختم نبوت و تحفظ ختم رسالت ہے۔ مولانا نے ختم نبوت کے تحفظ کی ذمہ داری کی اہمیت کو واضح کرنے کیلئے حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ؒ کا واقعہ مختصر میں بتایا کہ جب شاہ صاحبؒ کے پاسکہیں سے ختم نبوت کاکوئی مسئلہ آتا تو تلامذہ کی پوری ٹیم لے کر دار العلوم کی مسند شیخ الحدیث کو چھوڑکرگئے ہیں اور فتنوں کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک کر آتے تھے۔ یہاں پر ہم دار العلوم دیوبند، پھر اس کی مسند شیخ الحدیث اور بخاری شریف کے درس کا مقام دیکھیں،آپؒ کے شاگردبھی ایک سے بڑھ کر ایک علم کے سمندر اور پہاڑ تھے، ان سب کو چھوڑ کر مولاناؒ نے دور دراز کا سفر کیا، آخر کیوں؟ کیونکہ وہ اس کی اہمیت کا اندازہ اور اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کر رہے تھے۔ یقینا ہمارے علمائے کرام کے پاس بہت سی ذمہ داریاں ہیں، لیکن تمام ذمہ داریوں کے اوپر دین حنیف کی حفاظت،نبی کریمﷺ کی شان عظمت اور خاتمیت کی حفاظت ہماری بالکل بنیادی ضرورت ہے۔ اس لئے سب سے پہلے ہمارے اندر احساس پیدا ہونا چاہئے۔ جس طرح ظاہری ناک کی قوت شامہ سے ہم بدبو اور خوشبو کا احساس کر لیتے ہیں، اسی طریقے سے ہماری ایمانی حس اتنی قوی ہونی چاہئے کہ فتنے کے سر اٹھانے سے پہلے بالکل ابتدائی مرحلے کے اندر اس کا احساس ہو جائے، یہی مزاج ہمارے اکابرؒ کا تھا۔ آپ کو اللہ نے آپ کو اپنے دین کا علم عطا کرکے ذمہ داری کا منصب عطا فرمایا ہے اور آپ کے پہلو میں کوئی فتنہ پنپ جائے اور آپ کی طبیعت تڑپی نہیں، آپ اٹھ کر کھڑے نہیں ہوئے تو اللہ کے یہاں ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟مولانا نے اپنے بیان میں کہا کہ فتنوں سے بچانے کیلئے یہ ضروری ہے ہماری اپنی تیاری ہو، علمی اعتبار سے مضبوط ہوں، ہماری گفتگو علمی ہو، مولانا نے کتابوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا، دوسرے اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ہر دور میں کام کرنے کا انداز الگ الگ ہوتا ہے، ایساانداز اختیار کرنا ہوگا کہ جو ہمارے مخاطب ہوں ہم انہیں مطمئن اور اپیل کر سکیں،اگر آپ ان کے سامنے گاڑھی علمی استلاحات کااستعمال کریں گے تو وہ اس سے مطمئن نہیں ہو پائیں گے۔ وہ علم جو اللہ نے آپ کو عطا فرمایا ہے، قرآن و حدیث، فقہ و تفسیر کے ساتھ ساتھ بزرگوں کی جو تصانیف ہیں، اگر ان کا مطالعہ کریں گے تو آپ کیلئے راستے کھلیں گے۔ مولانا نے کہا کہ ایمان کی حفاظت سبھی کی ضرورت ہے، ہر آدمی اپنے طور پر تحفظ ختم نبوت کا کام کرے، نہیں کرسکتے تو اگر کوئی فرد کسی جگہ پر کام کر رہا ہے تو ہم جتنا ہو سکے اس کا تعاون کریں، عملی، اخلاقی، علمی تعاون پیش کریں۔ اس سے کام کرنے والوں کے اندر ہمت پیدا ہوتی ہے۔ مساجد میں جمعہ کے خطبہ میں معاملات، معاشرت اور اخلاقی خرابیوں پر گفتگوضرور کریں، نماز کی ترغیب اور رسم و رواج سے بچانے کی تدابیر کریں،اس پر کام ہونا چاہئے لیکن بنیادی طور پر ایمان و عقیدہ کی حفاظت یہ سب سے زیادہ ضروری ہے۔ جب انسان عقیدہ سے واقف ہی نہیں ہوگا تو وہ آسانی سے فتنوں کا شکار ہو سکتا ہے۔ آخر میں مولانا نے علمائے کرام کو دار العلوم دیوبند میں قائم شعبہ ختم نبوت سے جڑنے اور اس کی رہنمائی میں کام کرنے کے طریقہ کار سے واقف کرایا۔
بھیوینڈی مہاراشٹر سے تشریف لائے معروف مفسر قرآن مولانا سید محمد طلحہ قاسمی نقشبندی نے فرمایا کہ امت کو فتنوں سے بچانے کیلئے صرف علم کافی نہیں ہے، حالانکہ علم وتربیت اور باطل فتنوں کے مکائر سے واقفیت بھی ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ اور اس کے آخری رسول حضرت محمدﷺ کے ساتھ نہایت محبت ضروری ہے، یہ محبت اسی وقت حاصل ہوگی جب کسی محبت کرنے والے سے ہمارا تعلق ہوگا، دل میں اللہ کی یاد ہوگی،کثرت سے اللہ کو یاد کرنے کی ہماری عادت،گناہوں سے پرہیز،، مشتبہ کمائی سے احتیاط، ہماری نظریں محفوظ، تنہائیاں گناہوں سے پاک ہوں گی تبھی انشاء اللہ یہ محبت حاصل ہوگی۔ اس محبت کے بغیر فتنوں سے حفاظت ممکن نہیں ہے۔ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر علمائے امت بالخصوص علمائے دیوبند کی قربانیاں بے مثال ہیں۔ مولانا نے اپنے تمام تجربات کی روشنی میں بتایا کہ باطل فتنو ں کے مبلغ پہلے مجبور پریشان حال عام عوام کے درمیان جا کر ان کی ضرورتوں کو سمجھتے ہیں پھر اسے پورا کرتے ہوئے سب سے پہلے علماء سے بدظن کرتے ہیں، جب وہ شخص علماء سے بات کرنے کو راضی نہیں ہوتا تب اس کے بعد اس کے عقائد میں بگاڑ پیدا کرنے کاکام شرو ع کرتے ہیں۔ مولانا نے تمام مثالوں سے بتایا کہ باطل کا مقصد کسی مخصوص جھوٹی نبوت کا اقرار کرانا نہیں بلکہ ان کا مقصد حضرت محمدﷺ کی سچی نبوت سے دور کرنا ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی نے اپنے مختصر بیان میں باطل فتنوں اور ختم نبوت کے تعلق سے عالمی پیمانے پر اکابرین جمعیۃ کی محنتوں و کوششوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔
امارت شرعیہ ہند کے ناظم مفتی اسعد الدین قاسمی نے کہا کہ مذہب اسلام میں رواداری اور یکجہتی کی تعلیم دی گئی ہے لیکن دین کے معاملے میں کسی کے مشرکانہ عمل میں کمپرومائز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ عقیدہ توحیدو رسالت صرف زبان تک محدود نہ رہیں بلکہ صحیح معنوں میں اس کے مطلب اور مفہوم کو سمجھنے والے بنیں۔
جمعیۃ علماء وسطی اتر پردیش کے صدر مولانا اسلام الحق اسجد قاسمی نے کہا فتنوں کا اثر یا تو بہت پڑھے لکھے لوگوں پر ہوتا ہے یا بالکل ناخواندہ لوگوں پر، اس لئے ہم اپنے آس پاس کے حلقہ میں نظر رکھیں کہ کوئی ایسا شخص تو نہیں ہے جو دین کی باتوں کے نام پر عقائد کو خراب کر رہا ہے۔
مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے کہا کہ ختم نبوت کا عقیدہ ایمان کا بنیادی جز ہونے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ اگر اس میں دراڑ آگئی تو ہمارے مدارس، مکاتب، مساجدکچھ بھی محفوظ نہیں رہ پائیں گے۔ جب ہمیں افراد ہی نہیں ملیں گے تو ہم کسے دین کی تعلیم دیں گے۔ انہوں نے ائمہ مساجد سے اس بات پرزور دیا کہ وہ اپنے جمعہ کے خطبہ میں کم از کم مہینہ میں ایک جمعہ کو اس کیلئے خاص کر لیں اور اس میں بنیادی عقائد کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ فتنوں سے بھی لوگوں کو روشناس کرائیں۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کانپور کے نائب ناظم مولاناامیر حمزہ قاسمی نے تمام علماء کے سامنے عقیدہ کی باتیں اور مجلس تحفظ ختم نبوت کا مقصداور پروگرام کے عنوان کی اہمیت کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس سے قبل مدرسہ جمعیۃ علماء کانپور کے رکن منتظمہ قاری مجیب اللہ عرفانی نے تلاوت قرآن پاک سے نشست کا آغاز کیا۔ حافظ محمد مسعود نے نعت و منقبت کا نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ نشست میں کثیر تعداد میں علمائے کرام، ائمہ مساجد، ذمہ داران مدارس و مکاتب کے ساتھ دانشوران قوم و ملت موجود تھے۔ 

سمیر چودھری۔