احمد آباد: گجرات اسمبلی انتخابات میں یکساں سول کوڈ کا معاملہ زور و شور سے اٹھایا جا رہا ہے۔ اسی کڑی میں اب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ بی جے پی یکساں سول کوڈ لانے کے لیے پرعزم ہے، لیکن مثبت بحث و مباحثہ کے بعد۔ 
انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے یہ وعدہ جن سنگھ کے ابتدائی دنوں سے ہی ملک کے عوام سے کیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ صرف بی جے پی ہی نہیں، دستور ساز اسمبلی نے بھی پارلیمنٹ اور ریاستوں کو مناسب وقت پر یو سی سی لانے کا مشورہ دیا ہے، کیونکہ کسی بھی سیکولر ملک کے قوانین مذہب کی بنیاد پر نہیں ہونے چاہیے۔ اگر ملک اور ریاست سیکولر ہیں تو قوانین مذہب کی بنیاد پر کیسے ہوسکتے ہیں؟ ہر ایک کے لیے پارلیمنٹ یا ریاستی مقننہ کے ذریعے پاس کردہ قانون ہونا چاہیے۔ امت شاہ نے نیوز چینل ٹائمز ناؤ سمٹ میں دعویٰ کیا کہ دستور ساز اسمبلی کے عہد کو وقت کے ساتھ فراموش کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے علاوہ کوئی دوسری پارٹی یکساں سیول کوڈ کے حق میں نہیں ہے، جمہوریت میں بحث ضروری ہے۔ اس موضوع پر آزادانہ اور صحت مند مباحثہ کی ضرورت ہے۔ 
وزیر داخلہ نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت والی تین ریاستوں ہماچل پردیش، اتراکھنڈ اور گجرات میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ریٹائرڈ چیف جسٹس کی صدارت میں ایک پینل تشکیل دیا گیا ہے، جہاں مختلف مذاہب کے لوگ اپنے خیالات پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس کے بعد آنے والی سفارشات کی بنیاد پر کارروائی کریں گے۔ تمام طرح کی آزادانہ بحث و تمحیص کے بعد بی جے پی یکساں سول کوڈ لانے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کو ہٹانا ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے، تواس کے جوا ب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ کوئی بھی کامیابی ان کی ذاتی کامیابی نہیں ہے، کیونکہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کی کابینہ میں وزیر ہیں اور ہر کامیابی حکومت کی کامیابی ہے۔