نئی دہلی:  پیدائش، اموات اور ہجرت کی وجہ سے ہونے والی تبدیلیوں کو شامل کرنے کے لیے قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) کو دوبارہ اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ اس کے لیے ہر خاندان اور فرد کی ڈیموگرافک اور دیگر تفصیلات جمع کی جائیں گی۔ وزارت داخلہ نے یہ معلومات ۷ نومبر کو شائع ہونے والی اپنی 2021-22 کی سالانہ رپورٹ میں دی ہے۔بتادیں کہ این پی آر پہلی بار سنہ 2010 میں تیار کیا گیا تھا اور 2015 میں ملک کے تمام عام باشندوں کی معلومات اکٹھا کر کے اپ ڈیٹ کیا گیا تھا۔ اپوزیشن کی حکومت والی کئی ریاستوں نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔ مخالف فریق کا کہنا ہے کہ سٹیزن شپ رولز 2003 کے مطابق یہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کا پہلا قدم ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ این پی آر کو شہریت قانون سنہ 1955 کے تحت بنائے گئے شہریت کے قوانین، 2003 کے مختلف دفعات کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ نے رپورٹ میں کہاکہ " سنہ 2015 میں، کچھ فیلڈ جیسے نام، جنس، تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش، رہائش کی جگہ اور والد اور والدہ کا نام اپ ڈیٹ کیا گیا تھا اور آدھار، موبائل اور راشن کارڈ نمبر جمع کیے گئے تھے۔ تاہم موت اور ہجرت کی وجہ سے ہونے والی تبدیلیوں کو شامل کرنے کے لیے دوبارہ اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔" NPR جس کے پاس 115 کروڑ باشندوں کا ڈیٹا بیس ہے، مردم شماری کے پہلے مرحلے کے ساتھ اپ ڈیٹ کیا جانا ہے، جسے COVID-19 کی وجہ سے غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔