نئی دہلی: قطر میں دنیا کی 32 ٹیموں کے درمیان فیفا فٹبال ورلڈکپ 2022 کی ٹرافی جیتنے کے لیے جنگ کا آغاز 20 نومبر بروز اتوار سے ہوا۔ یہ پہلی بار ہے جب مسلم ملک میں فٹبال ورلڈ کپ کا انعقاد ہو رہا ہے۔ 5 دن کے بھرپور ایکشن کے بعد گزشتہ روز رواں ورلڈکپ میں پہلا جمعہ آیا اور اسلامی ممالک میں جمعہ کو کافی اہمیت حاصل ہے۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق جیسے ہی دوپہر ہوئی تو قطر میں مسجدوں میں جمعہ کی نماز کی اذان دی گئی جس کے بعد قطر میں موجود مسلمان کھلاڑی، مسلم شائقین اور میچ آفیشلز نے مساجد میں نماز جمعہ ادا کی۔ 
دوحہ میں واقع ابراہیم الخلیل مسجد میں بھی جمعہ کا اجتماع ہوا جہاں بڑی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی۔
رپورٹس کے مطابق ورلڈکپ کے لیے قطر میں آئے مسلمان شائقین فٹبال کا کہنا تھا کہ قطر نے جس طرح ہمیں سہولتیں فراہم کی وہ اس سے پہلے کہیں نہیں دیکھیں، یہاں اسٹیڈیمز میں نماز کے لیے جگہ مخصوص ہے، ہمارے لیے حلال کھانے کا انتظام کیا گیا جبکہ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اسٹیڈیمز میں شراب لے جانے پر پابندی عائد ہے۔

مراکش سے قطر میں ورلڈکپ دیکھنے آئے فٹبال کے متوالے یوسف نے خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک اسلامی ملک میں نماز جمعہ ادا کی ، یہی چیز مجھے اس ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ خوشی دے رہی ہے۔
واضح رہے کہ ورلڈکپ کی افتتاحی تقریب میں قرآن کی تلاوت سے لے کر دوحہ میں رسول اللہﷺ کی تعلیمات آویزاں ہونے تک ایونٹ کے آغاز سے اب تک قطر میں اسلامی اقدار کو نمایاں رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب خواتین اور ہم جنس پرستوں کے حوالے سے اپنے سخت قوانین کی وجہ سے قطر کو کچھ ممالک کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔فی الحال، مسلمان شائقین اس ٹورنامنٹ سے بھرپور لطف اندوز ہورہے ہیں۔