دوحہ: قطر میں فیفا فٹبال ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب کا آغاز قرآن مجید کی تلاوت سے کیا گیا جو معذور حافظ قرآن غانم المفتاح نے کی جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہیں۔
حافظ قرآن غانم المفتاح کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد انہیں دنیا بھر سے بھرپور پذیرائی مل رہی ہے اور انہیں بےحد سراہا جارہا ہے تاہم کئی لوگوں کے ذہن میں سوال ہے کہ آخر غانم المفتاح کون ہیں اور کیا کرتے ہیں۔ غانم المفتاح ۵ مئی ۲۰۰۲ کو قطر میں پیدا ہوئے بچپن میں ہی وہ ایک ایسی بیماری کا شکار تھے جس میں ریڑھ کی ہڈی کا زیریں حصہ نشونما نہیں پا سکتا تھا ابتدائی تعلیم کے لیے انکی والدہ نے جب انہیں اسکول میں داخل کروانا چاہا تو بہت سے اسکولوں نے انکار کر دیا اور جس اسکول میں وہ بالآخر داخلہ لینے میں کامیاب ہوئے وہاں معذوری کی وجہ سے بچے ان سے کھیلنے سے کتراتے تھے۔ تاہم انہوں نے دینی تعیمات حاصل کیں قرآن حافظ بنے اور آج ۲۰سالہ غانم المفتاح قطر کے معروف موٹیویشنل سپیکر ہیں اور ساتھ ہی غریسہ آئسکریم نامی کمپنی کے بھی مالک ہیں جس کی قطر میں ۶شاخیں اور ساٹھ کے قریب ورکرز ہیں۔

غانم نےاپنے جیسے کئی بچوں اور خاندانوں کی مدد کیلئے ایک فلاحی تنظیم الغانم فاؤنڈیشن کی بنیاد بھی رکھی جو دنیا بھر میں معذور افراد کو وہیل چئیر کی فراہمی یقینی بناتی ہے۔معذوری کے بعد بھی ہر میدان میں خود کو منوانے والے غانم المفتاح ۲۰۱۷میں وہیل چئیر کے بغیر ہاتھوں کے بل عمرہ کی سعادت حاصل کر چکے ہیں وہ زمانہ طالبِ علمی میں ہاتھوں میں دستانے پہن کر فٹ بال کھیلا کرتے تھے فٹبال کے علاوہ غانم بہترین غوطہ خور بھی ہیں اور سمندر میں ۲۰۰میٹر تک غوطہ خوری کے جوہر دکھا چکے ہیں۔
قاری غانم المفتاح نے پہلی مرتبہ قطر میں ہونے والے ’فیفا ورلڈکپ‘ کا افتتاح تلاوتِ قرآنِ پاک سے کیا جس کو دنیا کے ۵۰۰ سے زائد بڑے چینلز پر دکھایا گیا۔ قطر میں منعقد ہونے والا فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۲ تاریخ کا وہ پہلا ورلڈکپ ہے جس میں ناچ گانے کے بجائے قرآنی آیات کی تلاوت سے آغاز کیا گیا۔ تقریب میں امریکی اداکار مورگن فری مین نے بھی شرکت کی جنہوں اسٹیج کی زمین پر بیٹھ کر غانم المفتاح سے باتیں کیں اور اُن سے سوال کیا کہ دنیا کی اتنی ساری قومیں، ثقافتیں اور نسلیں ساتھ رہ سکتی ہیں؟ جس پر قطر کا معذور بچہ قرآن سے حل بتا رہا ہے اور قرآن کی بہت ہی عمدہ آیات کا انتخاب کرتے ہوئے اس سوال کا جواب دیا جن میں توحید اور مساوات کا خصوصی درس تھا۔اس موقع پر ہالی ووڈ اداکار مورگن فری مین کا بایاں ہاتھ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا جس کو انہوں نے دستانے سے ڈھانپ رکھا تھا، اس بارے میں مورگن فری مین نے۲۰۱۰میں بتایا تھا کہ ’میرے ہاتھ کی رگیں ضائع ہو گئی ہیں اور پھر وہ ٹھیک نہیں ہو سکیں، اس لیے میں ہاتھ کو ہلا نہیں سکتا اور ایک ہاتھ سے معذور ہوں۔‘اس وقت جب یورپ سمیت دنیا بھر میں ایل جی بی ٹی تحریک کی سرگرمیوں پر قطر میں پابندی عائد کیے جانے پر ان کے حقوق کی بات کی جارہی تھی وہیں قطر نے ایک معذور قاری سے ورلڈ کپ کا افتتاح کروا کر دنیا بھر کے معذور افراد کے حوصلے بلند کر کے اپنی ترجیحات دنیا کے سامنے واضح کر دی ہے۔