لکھنو: نیپال کی سرحد پر واقع یوپی کے اضلاع کے غیر تسلیم شدہ مدارس میں ذرائع آمدنی کی چھان بین کی جائے گی۔ سروے میں اکثر سرحدی مدارس نے زکوٰۃ کو اپنی آمدنی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اب پتہ چلایا جائے گا کہ سرحد کے 1500 سے زائد غیر تسلیم شدہ مدارس کو یہ زکوٰۃ کہاں سے مل رہی ہے۔ اس کے لیے سی ایم کی صدارت میں اجلاس ہونے جا رہا ہے۔
ہندی روزنامہ امر اجالا نے خصوصی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہےریاست میں غیر تسلیم شدہ مدارس کا سروے مکمل کر لیا گیا ہے۔ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار مدارس ایسے ہیں جنہوں نے رجسٹریشن نہیں کرایا ہے یا وہ غیر تسلیم شدہ ہیں ۔ ان میں 7.64 لاکھ سے زیادہ بچے زیر تعلیم ہیں۔ سروے میں زیادہ تر مدارس نے زکوٰۃ کو آمدنی کا ذریعہ بتایا ہے۔ حکومت بھی اس کو مان رہی ہے لیکن حکومت کی نیت یہ ہے کہ زکوٰۃ کا ذریعہ بھی معلوم ہو۔ خاص طور پر نیپال کی سرحد کے اضلاع میں اس پر خصوصی توجہ دینے کو کہا گیا ہے۔امراجالاکےمطابق سدھارتھ نگر کے سرحدی اضلاع میں 500 سے زیادہ غیر تسلیم شدہ مدارس، بلرام پور میں 400 سے زیادہ، لکھیم پور کھیری میں 200، مہاراج گنج، بہرائچ اور شراوستی میں 60 غیر تسلیم شدہ مدارس پائے گئے ہیں۔ ان تمام مدارس کے ذرائع آمدنی کی جانچ کی جاے گی اور جہاں سے ان کو زکوٰۃملتی ہے۔ تاہم بہت سے مدارس نے زبانی بتایا ہے کہ وہ کولکتہ، چنئی، ممبئی، دہلی، حیدرآباد سمیت کئی میٹروشہروں سے زکوٰۃ وصول کرتے ہیں۔دبئی اور نیپال بھی چند مدارس کو چندہ کی رقم دیتے ہیں۔ لیکن دستاویزات میں تحریری طور پر تلاش کیا جائے گا کہ رقم کہاں سے اور کتنی آئی۔ اقلیتی بہبود کے وزیر دھرم پال سنگھ نے کہا کہ اس کے لیے سی ایم کی صدارت میں ایک میٹنگ ہوگی اور ان سے منظوری لی جائے گی تاکہ کام پوری سنجیدگی سے ہوسکے۔غیر تسلیم شدہ مدارس پر کیا کارروائی ہوگی ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کی میٹنگ میں اس پر بات ہوگی۔ وزیر کا کہنا ہے کہ حکومت کا ارادہ ہے کہ مدارس میں پڑھنے والے طلباء ایسے اداروں میں پڑھیں جہاں ان کا مستقبل سنوارا جا سکے اور وہ قومی دھارے میں شامل ہوں۔