نئی دہلی:  سپریم کورٹ نے مسلمانوں میں رائج کثرت ازواج اور نکاح حلالہ کے کیسیز پر غور کرنے کے لیے آئینی بنچ تشکیل دینے پر رضامندی دے دی ہے۔چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی صدارت والی بنچ نے آج کہا کہ وہ ان روایتوں کو چیلنج دینے والی درخواست پر غور کرنے کے لیے نئی آئینی بنچ بنائے گی۔ 
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ نئی بنچ ان معاملوں کی سماعت کرے گی۔ یہ حکم سینئر وکیل اشونی اُپادھیائے کی درخواست پر دیا گیا ہے۔ اُپادھیائے نے درخواست کا آج صبح چیف جسٹس کی بنچ کے سامنے ذکر کیا تھا۔ درخواست میں مسلمانوں میں کثرت ازواج اور حلالہ کو ممنوع قرار دینے کی مانگ کی گئی ہے۔اُپادھیائے نے بنچ سے کہا کہ دو ججوں جسٹس اندرا بنرجی اور جسٹس ہیمنت گپتا سبکدوش ہوچکے ہیں اور نئی بنچ بنائی جانی ہے۔ اس سے پہلے پانچ ججوں، جسٹس اندرا بنرجی، ہیمنت گپتا، سوریہ کانت، ایم ایم سندریش اور سدھانشو دھولیہ کی بنچ اس معاملے کی سماعت کررہی تھی۔ درخواست میں مانگ کی گئی ہے کہ مسلمانوں میں رائج کثرت ازواج (ایک سے زائد شادیوں) کی روایت اور نکاح حلالہ پر پابندی لگائی جائے۔ یہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔