نئی دہلی: 2002 کے گودھرا ٹرین آتشزدگی معاملہ میں قصوروار ٹھہرائے گئے لوگوں میں سے ایک فاروق کو سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز ضمانت دے دی۔
فاروق کو تاحیات جیل کی سزا سنائی گئی تھی، لیکن چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ و جسٹس پی ایس نرسمہا کی بنچ نے فاروق کی طرف سے پیش وکیل کی دلیل پر توجہ دیتے ہوئے اور اب تک جیل میں گزاری گئی مدت کو دیکھتے ہوئے ضمانت دے دی۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس گودھرا ٹرین آتشزدگی معاملہ کے کئی قصورواروں کی سزا کے خلاف اپیل عدالت عظمیٰ میں زیر التوا ہے۔
آج گجرات حکومت کی طرف سے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے عدالت میں کہا کہ یہ (گودھرا ٹرین آتشزدگی معاملہ) سب سے بہیمانہ جرم تھا جس میں خواتین اور بچوں سمیت 59 لوگوں کو زندہ جلا دیا گیا تھا اور قصورواروں کی اپیل جلد از جلد سننے کی ضرورت ہے۔ تشار مہتہ نے کہا کہ فاروق سمیت کئی دیگر لوگوں کو سابرمتی ایکسپریس کے کوچ پر پتھراؤ کرنے کا قصوروار ٹھہرایا گیا تھا، اور عام طور پر پتھراؤ کرنا معمولی قسم کا جرم ہے، لیکن مذکورہ معاملے میں ٹرین کے کوچ کو بولٹ کیا گیا تھا اور یہ یقینی بنانے کے لیے پتھراؤ کیا گیا تھا کہ مسافر باہر نہ آ سکیں اور اس کے علاوہ فائر ٹنڈر پر بھی پتھر پھینکے گئے۔
27 فروری 2002 کو گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس کے ایس 6 کوچ میں آگ لگنے سے 59 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد گجرات میں تشدد پھوٹ پڑا تھا اور جگہ جگہ فسادات کے معاملے میں بھی سامنے آئے تھے۔