نئی دہلی:  سپریم کورٹ نے بجلی چوری کے معاملے میں ایک شخص کو 18 سال کی سزا سنانے والی  نچلی عدالتوں کے ذریعے دیے گئے فیصلے کو غلط قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس کی سزا کو کم کر کے دو سال کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ برقی چوری قتل کا جرم نہیں ہے۔ اس معاملے میں ہائی کورٹ نے مناسب فیصلہ نہ دینے پر برہمی کا اظہار کیا۔
تفصیلات کے مطابق  اتر پردیش کے اکرام نامی شخص کو 2019 میں برقی چوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس معاملے میں اس کے خلاف کل 9 مقدمات درج کیے تھے۔ 2020 میں اس کی تحقیقات کرنے والی ٹرائل کورٹ نے اکرام کو تمام  نو مقدمات میں قصوروار پایا۔ فیصلے میں ہر کیس کے لیے دو سال کی سزا کے ساتھ مجموعی طور پر 18 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
اکرم نے اس فیصلے کو  ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ تاہم ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔ چونکہ ہائی کورٹ نے اس سے اتفاق نہیں کیا، اس نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی۔ 
چیف جسٹس جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ جنہوں نے جمعہ کو درخواست کی سماعت کی۔ چندرچوڑ کی سربراہی والی بنچ نے نچلی عدالتوں کے فیصلوں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ سپریم کورٹ ایسے درخواست گزاروں کے دکھ کو سننے کے لیے کام کر رہی ہے۔ کیس چھوٹا ہے یا بڑا ہمارے لیے اہم نہیں ہے۔ کیا کسی شخص کو برقی چوری کرنے پر 18 سال کے لیے جیل بھیجا جا سکتا ہے؟ کیا یہ قتل کا جرم ہے ؟ ایسی صورت میں اگر مجرم کی سزا میں کمی نہ کی جائے تو یہ اس کے حقوق چھیننے کے مترادف ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ کم از کم ہائی کورٹ کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ مجرم کو مناسب انصاف نہیں دیا گیا۔ عدالت نے اس کی 18 سال کی سزا کو کم کرکے دو سال کر دیا اور ان مقدمات میں اس کے لیے ایک ساتھ سزائیں سنانے پر رضامندی ظاہر کی۔ جبکہ وہ ان مقدمات میں دو سال سے زیادہ کی سزا مکمل کر چکا ہے۔ تازہ ترین فیصلے سے اسے  جیل سے نکلنے کا راستہ ہموار ہوگیا۔