اعظم گڑھ: اترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں فرضی مدارس کے تعلق سے بڑا انکشاف ہوا ہے۔ ضلع میں خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے 219 مدارس کو صرف کاغذوں پر چلتے ہوئے پایا ہے۔ جبکہ انہیں سرکاری مدد ملتی رہی۔ ان میں سے 39 ایسے تھے جنہیں حکومت نے جدید کاری کے نام پر ادائیگی کی تھی۔ ایس آئی ٹی نے اپنی رپورٹ حکومت کو سونپ دی ہے۔حال ہی میں ریاستی سرکار کی طرف سے مدارس کا سروے کیاگیا ہے۔

ہندی دینک امر اجالا’ آن لائن کی ایک خبر کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ میں ایسے مدارس کے منتظمین اور پرنسپل کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس وقت کے ضلع اقلیتی بہبود افسر کے ساتھ اس وقت کے رجسٹرار کو بھی قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔سال 2009-10 میں اعظم گڑھ اور مرزا پور میں کئی مدارس کو فزیکل تصدیق کے بغیر تسلیم اور گرانٹ دینے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔
2017 میں وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے شکایت کی گئی تھی۔ وزیر اعلیٰ نے اس کی جانچ ایس آئی ٹی سے کرانے کی ہدایت دی۔ ایس آئی ٹی نے اقلیتی محکمہ کے کئی افسران اور ملازمین کے کردار کو مشکوک قرار دیا ہے۔