لکھنؤ: اترپردیش میں مدارس کے سروے کے بعد اب جمعہ کے بجائے اتوار کو چھٹی کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، لکھنؤ میں منعقدہ مدرسہ بورڈ کی میٹنگ میں بھی ایسی تجویز آئی ہے، میٹنگ میں کئی لوگوں نے اس تجویز کی مخالفت بھی کی ہے 
لکھنؤ میں منعقدہ مدرسہ بورڈ کی میٹنگ میں مدارس میں چھٹی کے دن کو جمعہ کے بجائے اتوار کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ اس پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ مدرسہ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر افتخار احمد جاوید نے کہا کہ مدارس سے وابستہ لوگ کافی عرصہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ چھٹی جمعہ کی بجائے اتوار کی جائے۔ اس طرح کی تجویز میٹنگ میں بھی آئی لیکن کئی لوگوں نے اس تجویز کی مخالفت بھی کی۔ مجھے بورڈ سے متعلق تمام تجاویز سننی تھیں۔ ان تجاویز پر جو بھی فیصلہ کیا جائے گا وہ مدرسہ بورڈ کے آئندہ میٹنگ میں لیا جائے گا۔
اقلیتی بہبود ہال میں منعقدہ میٹنگ میں مدارس سے وابستہ ماہرین تعلیم نے مدرسہ ایجوکیشن کونسل کے سامنے کئی اہم تجاویز پیش کیں، جن میں مدرسہ ریگولیشن 2016 میں سزا کے خلاف اپیل کی فراہمی، مدرسہ اساتذہ کے تبادلے، چھٹی کے قواعد، تعزیرات کا نفاذ شامل ہیں۔ مدارس میں یونیفارم رکھو جیسے اُمور بھی زیرِ غور آئے۔
اجلاس میں مدرسہ کے ملازمین اور اساتذہ کی معطلی، اخراج اور اپیل کے تعلق سے اساتذہ کے مفاد کو محفوظ رکھتے ہوئے قواعد بنانے کے بارے میں تجاویز پیش کی گئیں،اجلاس میں ماہرین تعلیم نے تقریباً 19 نکات پر اپنی تجاویز دیں۔ بورڈ کے آئندہ اجلاس میں تمام تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے تجویز حکومت کو بھیجی جائے گی۔