....قارئین کرام  
عیسوی سال۲۰۲۲ کا آخری مہینہ دسمبر ختم ہونے کے قریب ہے۔ اور نئے عیسوی سال ۲۰۲۳ کی آمد ہے۔ ہم جلد ہی ۲۰۲۲ء کو الوداع کہہ کر نئے عیسوی سال ۲۰۲۳ میں قدم رکھنے والے ہیں، جو گزرے سال کی طرح زندگی کی ایک اور بہار بن کر آئے گا اور پھر خوشی و غم اور مختلف طرح کے حالات سے نبرد آزمائی کرتے ہوئے گزر جائے گا۔ اور ماضی کی دھندلی یادیں ذہن و دماغ میں مرتسم ہوکر رہ جائیں گی، اور رفتہ برفتہ آگے بڑھتے ہوئے غیر محسوس طریقے سے ہم زندگی کی سیڑھیوں کو سر کرتے ہوئے حیاتِ مستعار کے ایک ایک سال سے محروم ہوتے جائیں گے۔
عیسوی سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز میں عموماً ہم مشاہدہ کریں گے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں نئے سال کا جشن بڑے ہی جوش و خروش اور دھوم دھام کے ساتھ منایا جائے گا ہمارے ملک ہندوستان میں بھی بہت سارے مسلم و غیر مسلم افراد بالخصوص نوجوان نئے سال کی آمد کے خوشی میں جشن منائیں گے، پٹاخے داغیں گے، آتش بازی کریں گے، گھروں میں قمقمے جلائیں گے، ایک دوسرے کو بڑی گرم جوشی کے ساتھ مبارکبادی پیش کریں گے، نام نہاد عاشق اپنی معشوقہ کو گریٹنک کارڈ کا ہدیہ دیں گے اور یوں اپنے روپے پیسوں کو بے تحاشا رائیگاں کیا جائے گا۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ نئے سال کی خوشی کے اظہار اور جشن کے اہتمام میں غیروں کے ساتھ بہت سارے مسلمان بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ جب کہ شریعت اسلامیہ میں اس قسم کی لہو و لعب سے لبریز تقریبات کے اہتمام کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے۔ نئے سال کی آمد کی خوشی میں نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جشن منایا ہے نہ صحابہ کرام کے دور میں اس قسم کی کوئی تقریب منعقد کی گئی ہے اور نہ ہی تابعین اور تبع تابعین کے دور میں اس رسم کو ادا کرنے کا کوئی سراغ ملتا ہے۔ 
اب سوال یہ پیدا ہوتا کہ آخر یہ کس نے ایجاد کیا؟ کو ن سی قوم نئے سال کا جشن مناتی ہے؟
در اصل یہ نئے سال کا جشن عیسائیوں کاایجاد کیا ہوا ہے، عیسائیوں میں قدیم زمانے سے نئے سال کے موقع پر جشن منانے کی روایت چلتی آرہی ہے، اس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ان کے عقیدے کے مطابق ۲۵/دسمبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی ، اسی کی خوشی میں کرسمس ڈے منایا جاتا ہے ، جس کی وجہ سے پوری دنیا میں جشن کی کیفیت رہتی ہے اور یہی کیفیت نئے سال کی آمد تک برقرار رہتی ہے
آج مسلمان نئے سال کی آمد پر جشن مناتا ہے کیا اس کو یہ معلوم نہیں کہ اس نئے سال کی آمد پر اس کی زندگی کا ایک برس کم ہوگیا ہے ، زندگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک بیش قیمتی نعمت ہے اور نعمت کے زائل یاکم ہونے پر جشن نہیں منایا جاتا؛ بل کہ افسوس کیا جاتاہے۔

گزرا ہوا سال تلخ تجربات، حسیں یادیں، خوشگوار واقعات اور غم و الم کے حادثات چھوڑ کر رخصت ہوجاتا ہے اور انسان کو زندگی کی بے ثباتی اور نا پائیداری کا پیغام دے کر الوداع کہتا ہے، سال ختم ہوتاہے تو حیات مستعار کی بہاریں بھی ختم ہوجاتی ہیں اور انسان اپنی مقررہ مدت زیست کی تکمیل کی طرف رواں دواں ہوتا رہتا ہے۔ اسی کو شاعر نے کہا ہے :

غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی

گِردوں نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹادی

مزید اللہ کےرسول اللہﷺ نے فرمایا:جو کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرے، وہ اُنھی میں سے ہے۔ لہذا ہم مسلمانوں کو اس قبیح عمل سے بچنا چاہئے جس سےکسی قوم کی مشابہت ہو۔