صوبائی جمعیۃ علماء کی مجلس منتظمہ کا اجلاس گزشتہ روز نوگاؤں کے مدنی ہال میں آسام کے صدر مولانا مشتاق عنفر کی صدارت میں منعقد ہوا۔ آسام کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے جمعیت کے تقریباً پانچ سو نمائندے اور کارکنوں کی موجودگی میں منعقدہ اجلاس میں صوبہ کے موجودہ نازک حالات پر، خاص طور پر غریبوں، استحصال زدہ اور کمزور مذہبی اقلیتوں کے مفاد میں متعدد اہم تجاویز منظور کی گئیں۔ اجلاس میں "سول رائٹس پروٹیکشن کمیٹی" (سی آر پی سی) کے ریاستی کارگزار صدر کمل دتہ، آل آسام مائنارٹی اسٹوڈنٹس یونین (آمسو) کے ریاستی صدر رضاء الکریم سرکار اور جنرل سکریٹری منت الاسلام، گوہاٹی ہائی کورٹ کے ایڈوکیٹ مصطفیٰ خدام حسین، ریٹائرڈ ایڈمنسٹریٹو آفیسر عمران حسین کھندکار اور مضبوط اقلیتی رہنما ایڈوکیٹ عزیز الرحمن نے شرکت کی۔ فی الحال آسام کی بی جے پی حکومت کی جانب سے صوبہ کی اقلیتوں، غریبوں اور مظلوم لوگوں کے خلاف کئے جا رہے غیر انسانی کاموں کی سبھی نے سخت تنقید کی ہے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ سرکاری زمینوں کو بے دخلیوں سے آزاد کرانے کے نام پر خاص طور پر اقلیتی اکثریتی علاقوں میں شدید سردی کے موسم میں حکومت کی جانب سے جو بے دخلی کی مہم چل رہی ہے، اس نے بزرگوں اور بچوں سمیت متاثرین کے انسانی حقوق اور بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں، لہذا اس غیر انسانی کارروائی کو جلد از جلد روکا جائے۔ نیز یہ بھی مطالبہ کیا کہ حکومت سرکاری مشن بشندھرا 2.0 اسکیم میں اقلیتوں کو بے جا طور پر گزشتہ ٧٥/ سالوں کے دستاویزات طلب کر کے ہراساں و پریشان نہ کریں۔ بلکہ آسانی کے ساتھ زمین کے پٹے دیں۔ 
آج کی مجلس میں یہ تجویز منظور کی گئی کہ گوہاٹی میں جلد از جلد ریٹائرڈ انتظامی افسران، وکلاء اور دانشوروں پر مشتمل ارباب حل و عقد کا اجلاس منعقد کیا جائے گا، اور اس اجلاس میں "مشترکہ زمینی پالیسی" تیار کرکے ریاستی حکومت کے سامنے پیش کی جائے گی کہ اس پالیسی کے مطابق جات پات، نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر حقیقی بے زمین لوگوں کو زمین کے پٹے فراہم کئے جائے۔ 
 اجلاس میں ایک اور تجویز یہ بھی منظور کی گئی کہ حقیقی بے زمین لوگوں کو بے دخل کرنے سے قبل معتد بہ وقت دیا جائے اور نوٹس کے ذریعہ آگاہ کیا جائے اور پھر دوسری سرکاری زمینیں مہیا کرنے کے بعد ہی بے دخل کیا جائے۔
 گزشتہ ٣٠/ اور ٦٠/ سالوں سے سرکاری اراضی پر رہنے والے افراد کو بلا نوٹس یونہی بے دخل کرنے کی مخالفت اور بے دخلی سے قبل قانونی کارروائی کی تکمیل کرنے کی حمایت میں تجویز منظور کرتے ہوئے آج کا اجلاس نے سرکاری پی جی آر اور وی جی آر کی زمینوں میں سرکاری سطح پر جائزہ لے کر حقیقی بے زمین لوگوں کو پٹے دینے کا پرزور اپیل کی۔
جمعیۃ علماء کے صوبائی صدر مولانا مشتاق عنفر صاحب کی قیادت میں جمعیتہ علماء کے ایک وفد جلد ہی آسام کے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کر کے حقیقی بے زمین غریب اقلیتی لوگوں کو بغیر کسی پیشگی نوٹس کے سرکاری زمین سے غیر انسانی بے دخلی کو روکنے، اور صوبائی حکومت کی "مشن بسندھارا-2.0" اسکیم میں حقیقی بے زمین اقلیتوں کو زمین کے پٹے دیئے جانے کے مطالبہ پر مشتمل میمورنڈم دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
آج کے اجلاس نے ملک میں اقلیتی مسلمانوں کے خلاف انتہا پسند فرقہ وارانہ تنظیموں کے کام کاج پر بھی سخت تنقید کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جمعیت علماء اور آمسو کی زیرِ قیادت آسام کے مذہبی اقلیتی تنظیموں کو متحد کرکے اقلیتی تنظیموں کی ایک مضبوط "کوآرڈینیشن کمیٹی" تشکیل دی جائے گی۔ نیز یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ جمعیۃ، آمسو اور سی آر پی سی کے مشترکہ طور پر سپریم کورٹ میں این آر سی کے بنیادی سال ١٩٧١ء کے حق میں اور ٢٠١٩ء میں جاری کردہ حتمی این آر سی کو باضابطہ طور پر اپنانے کے حق میں قانونی جنگ جاری رکھیں گے۔

اس کے علاوہ اجلاس میں ملک کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے ملاقات کرنے اور جمعیۃ کی جانب سے الگ الگ میمورنڈم پیش کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں انہیں حکومت آسام کی اقلیت مخالف پالیسیوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ 
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ کٹاؤ سے متاثرہ بے زمین افراد اپنے ضلع کے ریونیو سرکل آفیسر کے دفتر میں درخواست پیش کر کے سرکاری اراضی الاٹ کرنے کا مطالبہ کریں، ساتھ ساتھ درخواست کی فوٹو کاپیاں ریکارڈ کے طور پر اپنے پاس رکھیں۔ اس مرحلے میں جمعیت علماء کارکنوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ متاثرہ بے زمین لوگوں کے ساتھ تعاون کریں۔