بطور تمہید کے یہ بات عرض کردوں کہ صرف مسلمان ہی اس ملک میں پرسنل لاء کے حامل نہیں ہیں، تمام اقلیتیں (سکھ، بودھ، جین ،عیسائی) اور ہندوؤں کے بیشمار فرقے پرسنل لاء کے حامل ہیں
ان سب کو ختم کرکے یکساں سول کوڈ لانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے، یہ تو مسلمانوں کو منہ چڑھانے اور ان کی اعلی قیادت کی طرف سے ری ایکشن (ردعمل)دکھانے اور ہندو ووٹ کو پولرائز کرنے کا ایک پرانا ہتھکنڈا ہے، بد قسمتی سے جب جب یہ ہتھکنڈا استعمال کیا جاتا ہے، مسلمان کود کر آگے آجاتا ہے اور دیگر تمام اقلیتیں چپ چاپ تماشا دیکھتی ہیں کیونکہ وہ بہرحال ہمارے مقابلے میں زیادہ باشعور اور حقیقت حال سے واقف ہیں
عائلی قانون میں مسلم پرسنل لاء میں نکاح، طلاق، حضانت، وراثت، خلع وغیرہ آتے ہیں
حکومت ہند نے چند زر خرید خواتین کے مطالبے پر طلاق کے موضوع پر کھلے عام مداخلت کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں قانون سازی کی ہے تاہم جس نقطہ کو اٹھایا ہے وہ یکبارگی تین طلاق کے قانونی جرم ہونے کا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حکومت کے ڈنڈے کے بعد مسلمانوں میں طلاق کی شرح کم ہوگئی ہے۔
اب ایک عام آدمی بھی طلاق اور خلع جاننے لگا ہے اور کسی وکیل سے مشورہ کرکے طلاق نامہ یا خلع نامہ تیار کراتا ہے، جبکہ مسلمانوں کی کوئی تنظیم بشمول مسلم پرسنل لاء بورڈ ماڈل نکاح نامہ یا طلاق نامہ کا فارمیٹ تیار کرکے حکومت کو پیش کرنے سے اب تک قاصر ہیں، ان کے فرائض میں چیخ وپکار اور احتجاج کے سوا کچھ نہیں رہ گیا ہے
رہا معاملہ وراثت کا تو مسلمانوں میں ہندوانہ رسم ورواج یا مذہبی روایات کی مکمل نقالی کرتے ہوئے عورتوں کو ان کے حق وراثت سے محروم رکھنے کا عام چلن ہے، زیادہ امکان ہے کہ یکساں سول کوڈ (جس کے بل کا ڈرافٹ کہیں نظر سے نہیں گزرا) مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی وراثت کا حق دار بنائے گا جو نہ صرف ہندو سماج کے لئے بلکہ مسلم سماج کے لئے بھی باعث خیر اور مبنی بر انصاف ہوگا، یہ الگ بات ہے کہ یکساں طور پر حقوق کی تعیین کے بعد مسلمانوں کو اپنی شریعت یاد آنے لگے اور وہ للذکر مثل حظ الانثین کا ورد کرنے لگیں،
ان دو موضوعات کے علاوہ مسلم پرسنل لاء اور یکساں سول کوڈ میں تضاد کیا ہے؟
اگر ملک میں اشراف وارذال کے مابین رشتہ نکاح کے قانونی طور پر جائز ہونے کا قانون بنتا ہے تو اس سے فقہ تو متاثر ہوسکتی ہے اسلام نہیں متاثر ہو گا، ہاں ہندو مذہب کی چولیں ضرور ہل جائیں گی
وقت کا تقاضا ہے کہ اس موضوع پر خاموشی اختیار کی جائے اور دیگر اقلیتوں کی طرح ری ایکشن سے بچا جائے

مولانامحمد عارف عمری
استاذحدیث دارالعلوم عزیزیہ
میراروڈ.ممبئی۔