آگرہ: ارجنٹائن کا ایک سیاح، جو 26 دسمبر کو آگرہ میں کورونا سے متاثر پایا گیا تھا، لاپتہ ہو گیا ہے۔ آگرہ کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ارون کمار سریواستو نے یہ جانکاری دی۔ تاج محل میں اسکریننگ کے دوران سیاح کے نمونے لیے گئے تھے اور انٹی جن ٹیسٹ میں مثبت پائے جانے پر اسے احاطے کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ ڈاکٹر سریواستو نے کہا کہ غیر ملکی سیاح نے رابطہ کی غلط تفصیلات دی تھیں، حکام اور پولیس کی مدد سے اس کی تلاش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا تاج محل دیکھنے والے ایک بین الاقوامی سیاح کی کووڈ۔ 19 رپورٹ 26 دسمبر کو مثبت آئی تھی۔ اینٹی جن ٹیسٹ میں مثبت پائے جانے پر اسے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس نے ہمیں غلط رابطے کی تفصیلات دی تھیں۔ ہم مقامی انتظامیہ، پولیس، اے ایس آئی اور قریبی ہوٹلوں کی مدد سے اسے تلاش کر رہے ہیں۔ اس سے قبل، آگرہ میں 25 دسمبر کو چین سے واپس آنے والا ایک نوجوان کووڈ۔ 19 مثبت پایا گیا تھا۔ڈاکٹر سریواستو نے مزید کہاکچھ دن پہلے چین سے واپس آنے والا ایک اور نوجوان آگرہ میں کووڈ۔ 19 مثبت پایا گیا تھا۔ جینوم کی ترتیب کے لیے نمونے لکھنؤ بھیجے گئے ہیں۔ 
جینوم کی ترتیب ضروری ہے کیونکہ وہ چین سے واپس آیا ہے۔ وہ 22 دسمبر کو ہندوستان آیا تھا اور 23 دسمبر کو آگرہ پہنچا تھا۔ ہم اس کے رابطوں کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نوجوان کا زیادہ لوگوں سے رابطہ نہیں ہوا کیونکہ وہ واپسی کے بعد سے زیادہ تر وقت کمرے میں ہی تھا۔چین سمیت کئی ممالک میں کورونا کی لہر کے پیش نظر ہندوستان میں بھی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت کے رہنما خطوط کے تحت آگرہ ریلوے اسٹیشن، بس اسٹینڈ اور ایئرپورٹ پر جانچ کی جا رہی ہے۔ آگرہ میں تاج محل اور دیگر یادگاروں کو دیکھنے آنے والوں کی محکمہ صحت کی طرف سے اسکریننگ کی جا رہی ہے۔ اس دوران زیادہ توجہ غیر ملکی سیاحوں پر مرکوز ہے۔خیال رہے کہ آگرہ میں تاج محل دیکھنے کے لیے روزانہ بڑی تعداد میں ہندوستانی اور غیر ملکی سیاح آتے ہیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر سیاح کو یادگاروں کا دورہ کرنے سے پہلے کووڈ۔ 19 ٹیسٹ کرانا ہوگا۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ انفارمیشن آفیسر (آگرہ) انیل ست سنگی نے کہا، "محکمہ صحت نے انفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پہلے ہی ٹیسٹنگ شروع کر دی ہے۔ الرٹ جاری ہونے کی وجہ سے اب تمام سیاحوں کے لیے ٹیسٹ کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔