کانپور: جمعیۃ علماء شہر کانپور کے زیر اہتمام چلائی جا رہے ’نشہ مکت سماج، نشہ مکت شہر‘ مہم کے تحت حافظ عبد الحلیم چوک (حلیم کالج چوراہے)سے محمد علی پارک تک اور سریاں جاجمؤ سے نئی چنگی تک جمعیۃ علماء اترپردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی کی قیادت اور شہری صدر ڈاکٹر حلیم اللہ خاں کی صدارت میں نشہ مخالف ریلیاں نکالی گئیں۔ جمعیۃ علماء کے زیر اہتمام نکالی جا رہی ان ریلیوں میں قاضی شہر کانپور حافظ و قاری معمور احمد جامعی اور جاجمؤ عیدگاہ کے نائب امام مولانا غلام قادرشاہدی، سماجی خدمتگار اکرام بیگ، کارپوریٹر زرینہ خاتون کے علاوہ دیگر معززین نے بطور خاص شریک ہو کر جمعیۃ علماء کے زیر اہتمام جاری اس مہم کی سراہنا کرتے ہوئے ہر طرح سے ساتھ دے کر مکمل طور پر اس مہم میں تعاون دینے کی بات کہی۔
ریلیوں کی قیادت کر رہے جمعیۃ علماء اترپردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے کہا کہ نشے کی لت ایسی غلیظ چیز ہے جو انسان کو ہر طرح سے کمزور کرتی ہے، اس کی عقل کوبھی کھاتی ہے، اس کے اند برائی کا جذبہ پیدا کرتی ہے، بھلائیوں سے دور کرتی ہے، نیکیوں سے دور کرتی ہے، عقل و شعور تو بالکل ختم کر دیتی ہے، اسی کے ساتھ ساتھ انسان کی صحت کو بھی کھوکھلا کر دیتی ہے اور معاشی طور پر بھی انسان کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ آج ہمارے ملک میں جرائم بڑھتے جا رہے ہیں، روزانہ ٹیلی ویز ن اور اخبارات کے ذریعہ عجیب عجیب طریقے کے جرائم سامنے آ رہے ہیں اور حکومت اس کو لے کر فکرمند بھی ہے، جرائم کو روکنے کیلئے پولیس محکمہ مستعد رہتا ہے، لاء اینڈ آرڈر اسی لئے بنا ہے تاکہ ہم جرائم کو روک سکیں، جبکہ جرائم کے اسباب میں ایک بہت بڑا بلکہ بنیادی سبب نشے کی لت ہے۔ لہٰذا اگر ہم اپنے سماج اور معاشرہ کو ”اپرادھ مکت“ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں پہلے اسے نشہ مکت بنانا پڑے گا۔ ”نشہ مکت“سماج بنے بغیر ”اپرادھ مکت“ سماج کاتصور ہی محال ہے۔ آج معاشرہ کی سب سے بڑی ضرورت ہے کہ ہم اپنے معاشرہ کو ”اپرادھ مکت“ بنائیں، جرائم سے پاک صاف کریں، اس کیلئے نشے کو معاشرہ سے پاک صاف کرنا نہایت ضروری ہو گیا ہے۔ ہماری پولیس و انتظامیہ اور حکومتوں سے یہ اپیل ہے کہ وہ اگر ”اپرادھ مکت“ یعنی جرائم سے پاک صاف معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں اور اس کیلئے سنجیدہ ہیں تو وہ سب سے پہلے نشے کو سماج سے ختم کریں، اس کے بغیر وہ معاشرہ کو جرائم سے پاک نہیں کر سکتے۔
شہری صدر ڈاکٹر حلیم اللہ خان نے کہا کہ جو لوگ بھی نشہ کی لت سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں وہ یا ان کے گھر والے جمعیۃ علماء کے ذمہ داران سے یا شہر کے علماء سے رابطہ کریں، نشہ چھڑوانے میں ہر طرح سے ان کی مدد کی جائے گی۔
زبیر احمد فاروقی نے کہا کہ نشہ مخالف ریلی کا مقصد سماج اور ملک کو بہتر بنانا ہے، نشے سے خالی کرنا ہے، لوگوں کی زندگیوں میں خوشیاں لانا ہے، نشہ کے عادی ہو چکے لوگوں کو ایک نئی زندگی کی شروعات کرانا ہے۔
مولانا نورالدین احمد قاسمی نے لوگوں سے عزم کرایا کہ اپنے سماج سے نشہ جیسی بیماری کو ختم کرکے رہیں گے۔ ہم یہ کوشش کریں کہ ہمارے گھر، محلہ اور سماج میں کوئی شخص بھی نشہ کا عادی نہ رہے۔
مولانا محمد اکرم جامعی نے کہا کہ نشہ میں مبتلا ہو کر نوجوان خود اپنی صحت کے ساتھ ساتھ اپنے گھر،کنبہ،شہر اور سماج کو برباد کر رہا ہے، نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ نشے سے باز آ جائیں، نشہ چھوڑ دیں۔ نشہ کی لت کو چھڑانے میں جمعیۃ علماء کے احباب آپ کے پورے معاون اور ہمدرد ثابت ہو ں گے۔
سریاں کارپوریٹر زرینہ خاتون نے کہا کہ جو لوگ بھی نشہ کرتے ہیں اور نشے میں دھت ہو کر اپنے گھر والوں کے ساتھ جس بد سلوکی کا مظاہرہ کرتے ہیں اسے دیکھ کر کوئی بھی انسان شرمندہ ہو جائے،ہم اپنے بھائیوں سے کہیں گے کہ وہ اپنا قیمتی پیسہ جو نشہ میں برباد کرتے ہیں اسے دودھ اور صحت بخش غذا میں لگا کر اپنے آپ کو کار آمد بنا سکتے ہیں۔
جاجمؤ عیدگاہ کے نائب امام مولانا غلام قادر شاہدی نے کہا کہ نشہ کرنے والا خود تو تباہ ہوتا ہی ہے، اس سے جڑا ہوا خاندان اور تمام لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں، علاقہ اور محلہ بدنام ہوتا ہے۔ جمعیۃ علماء کے زیر اہتمام نکلنے والی ریلیوں سے سماج میں ضروراثر پڑے گااور مثبت نتائج ہمیں دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
چمن گنج اور جاجمؤ سے نکلنے والی نشہ مخالف ریلیوں میں خاص طور پر مولانا ابو الحسن عبداللہ قاسمی، مولانا شرف عالم ثاقبی، حافظ محمد سلمان جامعی، قاری محمد شفیق جامعی، حافظ نور الہدیٰ جامعی، حافظ محمد معراج، مولانا ابرا ر احمد قاسمی، مولانا شادان نفیس قاسمی، حافظ آفتاب، حافظ جمیل، قاری ندیم، جاوید احمد ایڈوکیٹ، محمد ذیشان عالم خاں،محمد عقیل، شارق نواب، عبد الرحمن، صادق امین، پرویز اللہ خاں، مولانا عبدالحلیم،قاری محمد حذیفہ نقشبندی، حافظ محمد عابد، حافظ محمد صدیق،مولانا عبد العظیم قاسمی، حافظ محمد ممتاز کے علاوہ دیگر لوگ موجود تھے۔

سمیر چودھری۔