عبدالغفار صدیقی
9897565066
گزشتہ ہفتہ ایک بڑے شاعر سے ملاقات ہوئی۔انھوں نے قرآن مجید کا منظوم ترجمہ کرنا شروع کیا ہے۔کئی سورتوں کا بشمول پارہئ عم ترجمہ کرچکے ہیں۔ملاقات پر میں نے معلوم کیا کہ ترجمہ کا کام کہاں تک پہنچا؟کہنے لگے:۔”فی الحال بند ہے۔“ میں نے کہا کیوں بند کردیا؟ اس کے جواب میں موصوف نے بڑے افسردہ لہجے میں کہاکہ پڑھے گا کون؟آپ اردو کا حال نہیں دیکھ رہے ہیں۔ہماری نسلیں اردو سے ناواقف ہیں،میں محنت کروں گا،کوئی پڑھے گا نہیں تو کیا فائدہ ہے؟ان کے الفاظ میں درد تھا۔ایک ایسا درد جو ہر تخلیق کار کے اندر موجود ہے۔ اس درد کا احساس بھی ایک تخلیق کار ہی ہوسکتا ہے۔آج کے دور میں قرآن پاک کا منظوم ترجمہ کرنا اندھوں کے شہر میں آئینے بیچنے جیسا ہے۔ یہ تکلیف جو ہمارے محترم کو شاعر کو ہے ملت کے ہر طبقے میں پائی جاتی ہے۔کسی مسجد کے امام یا عالم دین سے ملاقات کیجیے اور ان سے ملت کی دینی صورت حال پر گفتگو کیجیے تو وہ فرمائیں گے کہ بھائی آج کل کوئی کسی کا سنتا ہی کب ہے؟کسی سیاسی جماعت کے لیڈر سے بات کیجیے تو وہ بھی عوام کی شکایت کرے گا۔کیا واقعی ملت کی مجموعی صورت حال اتنی ہی مایوس کن ہیاور ہم صرف تبصرہ نگار بن کر رہ گئے ہیں۔
بقول حفیظؔ میرٹھی:
درد پر تبصرہ تو بہت ہوچکا
درد کو آپ محسوس بھی کیجیے
میں نے اپنے شاعر دوست سے عرض کیا کہ آپ اپنا کام کیجیے اوراس وقت تک کرتے رہیے جب تک ہاتھوں میں جنبش اور زبان میں قوت وطاقت ہے۔آج اگر آپ کی تخلیق کو پڑھنے والے نہیں ہیں تو ہوسکتا ہے پچاس سال بعد پیدا ہوجائیں۔آپ کے شہر میں نہیں ہیں تو دوسرے شہر میں ہوں گے۔اپنے ملک میں نہیں ہیں تو دیار غیر میں ملیں گے۔اردوزبان اب کسی ایک ملک کی زبان نہیں رہی ہے بلکہ بین الاقوامی زبان ہے۔ہر ملک میں اردو جاننے والے اور اردو بولنے موجود ہیں۔اس لیے کسی مایوسی کی ضرورت نہیں ہے۔آپ اللہ کی کتاب کا منظوم ترجمہ کررہے ہیں،یہ سعادت کی بات ہے۔یہ آپ کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔یہ آپ کے لیے آخرت میں نجات کا سبب ہوگا۔ان شاء اللہ۔میں نے ان سے عرض کیا کہ اگر آپ اس عمل سے رک جائیں گے تو اللہ تعالیٰ اپنی دی ہوئی صلاحیتوں کے بارے میں دریافت کرے گا۔تب آپ کے پاس کیا جواب ہوگا۔؟کیا وہاں یہ کہہ کر چھٹکارہ مل جائے گا کہ ہمارے شہر میں پڑھنے والے نہیں تھے اس لیے ہم نے لکھا نہیں۔اگر پلٹ کر یہ سوال کرلیا گیا کہ تم نے شہر میں پڑھنے والے پیدا کرنے کے لیے کیا کیا َ یا اس شہر سے ہجرت کیوں نہیں کی تو کیا جواب ہوگا؟موصوف نے وعدہ کیا کہ وہ ترجمہ کا کام دوبارہ شروع کریں گے۔سوال یہ ہے کہ ملت کا ہر درد مند یہی سوچ کر بیٹھاجائے گا کہ کوئی سننے اور سمجھنے والا نہیں ہے تو حالات میں سدھار کون کرے گا۔تاریکی کاشکوہ کرنے سے اجالا نہیں پھیلے گا۔روشنی تو شمع جلانے سے ہی ہوگی۔یہ شمع جلائے گا کون؟
تاریکیئ شب کا تو بہت شکوہ ہے ہم کو
اب دیکھنا یہ ہے کہ سحر کون کرے گا
جب شیطان اور اس کی ذریت کسی بھی زمانے میں گمراہی پھیلانے سے باز نہیں رہے اور دربار الٰہی سے ملے ہوئے چیلینج کو قبول کرکے اپنا کام دن رات کرررہے ہیں تو رحمان کے بندے مایوسی کا شکار کیوں ہیں؟ مایوسی تو شیطان کو ہونی چاہئے تھی کہ اس کے پیروکار لاکھ کوشش کے باوجود بھی اپنا پروڈکٹ خیر اور نیکی کے لفافے میں رکھ کر فروخت کرنے کے لیے مجبور ہیں۔زیادہ تر شیطانی اعمال کواس کے علم برداروں نے ہر زمانے میں یہی کہہ کر پیش کیا ہے کہ یہی آسمانی ہدایت ہے۔آج بھی شیطان اور اس کے چیلے اپنی پالیسی اور پروگرام یہی کہہ کر سامنے لارہے ہیں کہ اسی میں ساری دنیا کی فلاح ہے اور سب کا وکاس ہے۔
اب یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے عمل کا اس پہلو سے جائزہ لیتے رہیں کہ اس کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں۔مطلوبہ اثرات مرتب نہ ہونے کی صورت میں اسباب کا تجزیہ کرنا چاہئے۔مطلوبہ اثرات کے حصول کے لیے جد و جہد کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ایک شاعر کو شعر کہنے کے ساتھ ساتھ شعرفہمی کا ذوق رکھنے والے سامعین پیدا کرنے کے لیے بھی تگ و دو کرنا چاہئے۔ایک عالم کو اپنی تقریر کا اس پہلو سے جائزہ لینا چاہئے کہ اس نے جو بات عوام کے سامنے پیش کی ہے کیا وہ قابل عمل ہے؟کیا وہ خود اس بات پر عمل پیرا ہے؟اگر ان دونوں سوالوں کاجواب مثبت ہے تو پھر اسے یقین رکھنا چاہئے کہ اس کی تقریر کے مطلوبہ نتائج ضرور حاصل ہوں گے۔اللہ کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا۔اس کے برعکس اگر ہماری تقریر میں ہی آسمان سے اوپر اور زمین کے نیچے کی باتیں کہی گئی ہوں،یا ہماری زبان اور عمل میں تضاد ہو تو پھر کسی نتیجے کی امید رکھنا حماقت ہے۔ایسے علماء اور مقررین کو دوہرا عذاب ہے۔کوئی مقرر یہ کہہ کر نہیں چھوٹ سکتا کہ جب ایک موچی اپنے بنائے ہوئے سارے جوتے نہیں پہنتا،ایک بنکر اپنے بنے ہوئے سارے تھان خود استعمال نہیں کرتا تو ایک مقرر اپنی کہی ہوئی ساری باتوں پر کیسے عمل کرسکتا ہے؟آج کل ہمارے معاشرے میں ہر چیز تجارت بن گئی ہے۔خطیبوں نے اپنے فن خطابت اور شعرا نے اپنے اشعار کی قیمت درہم و دینار کی شکل میں وصول کرنا شروع کردیا ہے اس لیے بھی انھیں سماج میں تبدیلی کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہورہے ہیں۔
کسی بھی سماج میں اصلاح کا عمل کرنے والے ہی مثبت اور منفی نتائج کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔کوئی استاذ اپنے شاگردوں کو نالائق بتاکر اپنا دامن نہیں چھڑا سکتا۔اس کی ذمہ داری یہی ہے کہ اپنے شاگرد کی نالائقی کو دور کرے۔اس کے لیے جس قدر وہ کوششیں کرسکتا ہے کرے۔اسی طرح کوئی بھی مصلح اور رہنما عوام کی نالائقی کا عذر پیش کرکے کنارہ کش نہیں ہوسکتا۔اسے یہ بھی بتانا ہی ہوگا کہ اس نے عوام کی نالائقی دور کرنے کے لیے کیا کیا ہے؟اصلاح کا عمل کوئی آسان کام نہیں ہے۔دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک کام انسانوں کی اصلاح ہے۔انسان کوئی لوہا یا لکڑی نہیں،جب کہ لوہا اورلکڑی کو بھی اصلاح کے عمل میں آگ اور آرے سے گزرنا پڑتا ہے،اس میں بھی کاریگر کے ہاتھوں میں گٹے پڑجاتے ہیں تب جاکر کہیں کوئی کام کی چیز بنتی ہے۔انسانوں کے تعلق سے ہم چاہتے ہیں کہ ہم جیسے بے عملوں کی زبان سے کوئی لفظ نکلے،عوام سنے اور فوراً کوئی تبدیلی آجائے۔
قوم کے سیاسی رہبر ہوں یا ملی رہنما ہوں،مذہبی مدبر و مفکر ہوں یا سماجی مصلحین ہوں یا تخلیق کار ہوں کسی کو بھی مایوس ہونے یا دل برداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔جب کفر کے مبلغین اپنا حوصلہ نہیں ہارتے ہیں تو حق کے علم براداروں کو دل شکستہ ہونے کی کیا ضرورت ہے؟اپنے اصلاحی و تخلیقی عمل کو جاری رکھیے۔منصوبہ بند کوششیں کیجیے اورجائزہ لیتے رہیے۔اپنے اخلاص اور اپنے عمل کابھی احتساب کرتے رہیے۔تنظیمیں اپنی صفوں کا بھی جائزہ لیں۔دنیا کی چند روزہ زندگی پر نہ ریجھیں،ہرسطح پر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں۔تاریخ میں اپنا نام تماشہ دیکھنے والوں کے بجائے جد وجہد کرنے والوں میں درج کرائیں۔یقین رکھیے اک دن آپ کی کوششیں ضرور رنگ لائیں گی۔عزم اور یقین محکم کے ساتھ عمل پیہم نتیجہ خیز ثابت ہوگا،انشا ء اللہ۔ہوسکتا ہے ہم اپنے لگائے ہوئے درخت کے پھل نہ چکھ سکیں،لیکن ہمارے لگائے ہوئے درختوں پر پھل ضرور آئیں گے۔
جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے رستا وہیں سے نکلے گا
وطن کی خاک ذرا ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقین ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا